خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 129

خطبات محمود ۱۲۹ سال 1927ء ہیں ہم ان کی کھالیتے ہیں۔اور اگر یہ نہیں تو ہم بھی نہیں کھا سکتے۔یہاں ایک ہندو نے مجھے کہا۔میں آپ کی دعوت کرتا ہوں۔میں نے کہا پہلے تم ہماری دعوت کھاؤ پھر میں تمہاری کھاؤں گا۔دیکھو چوہڑوں چماروں سے چھوت چھات نہیں کی جاتی۔انہیں کہا جاتا ہے۔تم مسلمانوں سے چھوت چھات کرو تو ہم تمہارے ہاتھ کا کھا لیں گے۔کیا وہ مسلمانوں سے زیادہ صاف وستھرے ہوتے ہیں۔نہیں صفائی کا کوئی سوال ہی نہیں۔سوال تمدنی اور قومی ہے۔کہ اپنا گھر بھرنا ہے۔پس اگر ہند و سیانے ہیں تو ہم بھی عقل کی بات کریں تو فساد کیوں پیدا ہو سکتا ہے۔جو اس بات کو فساد کا موجب قرار دیتا ہے وہ خود فساد پھیلاتا ہے۔غرض مضمون نگار کے تینوں اعتراض بالکل غلط ہیں۔یہ غلط ہے کہ لاٹھی رکھنے سے فساد پیدا ہوتا ہے۔فسادنہ لاٹھی رکھنے سے پیدا ہوتا ہے نہ تلوار اور بندوق رکھنے سے۔بلکہ ان کے ناجائز استعمال سے پیدا ہوتا ہے۔ہتھیار رکھنے کی تعلیم سارے بزرگوں نے دی ہے۔قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر ہے۔حضرت عیسی نے بھی اپنے پیروؤں سے کہا ہے۔سکھوں کے گورو صاحب نے بھی اس کے متعلق تعلیم دی ہے۔اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ حضرت مسیح نے یا سکھوں کے گورو نے فساد کی تعلیم دی ہے۔یہ سب نیک لوگ تھے اور بزرگ تھے۔انہوں نے اپنی قوم کی اخلاقی حالت کی درستی اور اصلاح کے لئے یہ تعلیم دی۔اب کہا جاتا ہے کہ گورنمنٹ اسلحہ کے متعلق لائسنس کی شرط اڑا دے اور ہر ایک کو رکھنے کی اجازت دے دے۔اس طرح اگر امن میں خلل نہیں پڑتا۔تو پھر سونٹار کھنے سے کس طرح پڑ سکتا ہے۔اسی طرح لوگوں کو تبلیغ کرنے کی تعلیم ہے۔تمام بزرگ مسلمانوں کے انبیاء ہندوؤں کے رشی اور سکھوں کے گرو اسی مشن کو لے کر دنیا میں آئے۔اور اس پر عمل کرتے رہے۔اگر وہ فساد پھیلانے والے نہ تھے۔تو میں ایسی تسلیم دینے سے کس طرح فساد پھیلانے والا ہو گیا۔اسی طرح یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے مسلمانوں کو ہندوؤں سے بائیکاٹ کرنے کے لئے کہا ہے۔پس جو اعتراض کئے گئے ہیں۔وہ درست نہیں ہیں۔اگر کوئی دلیل سے ثابت کر دے کہ یہ باتیں فساد پیدا کرنے والی ہیں تو آج ہی انہیں واپس لینے کے لئے تیار ہوں۔میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں۔اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک میرا یہ تعلیم دینا ظلم ہے تو انہیں اسی وقت چھوڑنے کے لئے تیار ہوں۔مگر میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ وہی باتیں جب ہندو کریں تو فسادنہ پیدا ہو۔لیکن جب ہم کریں تو فساد پیدا ہو۔آخر میں میں اپنی جماعت اور دوسرے مسلمانوں سے پھر کہتا ہوں کہ وہ ان تینوں باتوں پر نہایت پابندی اور پختگی کے ساتھ عمل کریں۔جہاں قانوناً منع نہ ہو وہاں لوگ اپنے ہاتھ میں سونٹار کھیں۔