خطبات محمود (جلد 11) — Page 112
خطبات محمود ١١٢ سال 1927ء اچھی بھی ہوتی ہے اور بری بھی۔محض جان کو خطرہ اور ہلاکت میں ڈالنا کافی نہیں ہوتا ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی جان کو خطرہ میں ڈالتے ہیں مگر بد ترین انسان سمجھے جاتے ہیں۔کیا ایک چور اپنی جان کو خطرہ میں نہیں ڈالتا یقیناً ڈالتا ہے۔اسی طرح ایک قاتل بھی اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ جس کو میں قتل کرنے چلا ہوں۔اس کے رشتہ داروں نے اگر دیکھ لیا تو مار دیں گے۔یا اگر گورنمنٹ نے پکڑ لیا تو پھانسی دے دے گی۔یہ اسے خطرہ ہوتا ہے۔مگر باوجود اس کے ایسے لوگوں کے افعال کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔حالانکہ کئی چور اس نقطہ نگاہ کو اپنے سامنے رکھتے ہیں کہ ہم قربانی کرتے ہیں۔اور وہ سمجھتے ہیں کہ اچھا کام کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے میں نے ایک چور کو نصیحت کی کہ یہ بہت برا کام ہے اسے چھوڑ دو۔کہنے لگا آپ بھی محنت کرتے ہیں ہم بھی محنت کرتے ہیں۔آپ کو کوئی خطرہ نہیں ہو تا۔مگر ہم اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال | دیتے ہیں۔جب ہماری محنت کے ساتھ خطرہ بھی لگا ہوا ہے۔تو پھر آپ کی کمائی تو حلال ہو گئی۔ہماری کمائی کیوں حلال نہیں۔تو چور اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالنے کی وجہ سے اپنی کمائی کو حلال قرار دیتے ہیں۔اور شاید قاتل ان سے بھی بڑھ کر اپنے فعل کو اچھا سمجھتے ہوں۔مگر کوئی سمجھدار ان کے افعال کو اچھا نہیں کہتا۔ہر شخص اور ہر مذہب برا کہتا ہے۔لیکن ان کے مقابلہ میں ایک ڈاکٹر بھی اپنی جان کو خطرہ میں ڈالتا ہے۔طاعون کا مریض ہوتا ہے۔ڈاکٹر اس کے پاس جاتا ہے۔حالانکہ مریض کے عزیز اور رشتہ دار پاس نہیں آتے۔ڈاکٹر جا کر گلٹی کو منولتا ہے۔اس کا اپریشن کرتا ہے۔اس پر دوائی لگاتا ہے۔اسی طرح ہیضہ کے مریض کی قے دیکھتا ہے۔اس کے قریب اپنا منہ اور ہاتھ لے جاتا ہے۔رسل والے کے بلغم کے رنگ اور قوام کو اچھی طرح دیکھتا ہے۔اس کا سینہ دیکھتا ہے۔اپنے منہ کو اس کے منہ کے پاس لے جاتا ہے جب اس کے حلق اور دانتوں کو دیکھتا ہے۔اور اس طرح اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالتا ہے۔مگر اسے کوئی برا نہیں کہتا بلکہ سب اس کی تعریف کرتے ہیں۔اب دیکھو ایک قاتل نے بھی اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالا اور ڈاکٹر نے بھی۔پھر کیا وجہ ہے کہ ایک کو معزز سمجھا جاتا ہے اور ایک کو ذلیل۔دنیا میں جتنی قربانی کی مثالیں مل سکتی ہیں۔ان کو اگر دیکھا جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اچھی اور بری قربانیوں میں ایک ہی فرق ہے۔اور وہ یہ کہ بری قربانیاں وہ ہیں جن میں انسان اپنی جان کو اس لئے خطرہ میں ڈالتا ہے۔کہ دوسرے کی جان لے۔لیکن اچھی قربانیاں وہ ہیں۔جن میں انسان اپنی جان کو اس لئے خطرہ میں ڈالتا ہے۔کہ دوسروں کی جان زندہ رکھے۔یعنی جو قربانی جان لینے کے لئے ہوتی ہے وہ بری ہوتی ہے۔اور جو جان بچانے کے