خطبات محمود (جلد 10) — Page 60
60 اور جس کی اصلاح کرنی ہے وہ کہتے ہیں ہم آسمان پر بیٹھے ہیں ہمیں کون نیچے لا سکتا ہے۔وہ اپنے آپ کو عام انسانوں سے بالا سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے تمدن کو کون نیچے لا سکتا ہے۔پھر وہ یہ خیال کئے بیٹھے ہیں کہ ہم میں سے کوئی پیدا ہو گا۔جو سپرمین (Super Man) ہو گا۔وہ اپنے آپ کو عام انسان بھی نہیں سمجھتے۔پس اس زمانہ میں ایسے لوگوں سے مقابلہ ہے۔اس لئے اگر اس طرح کے نتائج نہیں نکل رہے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت نکلے۔تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مفاسد اور برائیوں کا مقابلہ زیادہ سخت ہے۔اس وقت بدیوں کا منبع مغرب ہے اور طبعی کمزوریاں مغربی مظالم سے پیدا ہو رہی ہیں۔جب تک ان کو کاٹا نہ جائے یہ رک نہیں سکتیں اور اگر تمدنی اور علمی اور فلسفی غلطیاں اور بدیاں پیدا ہو رہی ہیں۔تو وہ بھی مغربی مظالم سے ہی پیدا ہو رہی ہیں۔غرض اس وقت ایسے دشمن سے مقابلہ ہے۔جو ہر لحاظ سے زبردست ہے اور شروع شروع میں اس کا مقابلہ آسان نہیں۔کیونکہ قرآن شریف میں ہے کزرع اخرج شطاء فأذره فاستغلظ فاستوى على سوقہ (الفتح ۳۰) کہ وہ آہستہ آہستہ ترقی کرے گی پہلے باریک کو نیل کی طرح نکلے گی۔جس کے یہ معنے ہیں کہ وہ اپنی ذات میں کمزور ہوگی اور ارد گرد کی چیزیں اسے پنپنے نہیں دیں گی۔ایک شخص جس کو ایک ٹہنی کے توڑنے پر مقرر کیا جائے۔شمنی کو جلدی توڑ لیتا ہے۔لیکن وہ شخص جس کو درخت کاٹنے پر لگایا جائے وہ درخت کاٹنے میں دیر ہے۔اس شخص کے بالمقابل کسی الزام کے نیچے نہیں آتا کیونکہ تمام لوگ جانتے ہیں کہ درخت کا کاٹنا ٹنی کے کاٹنے سے مشکل کام ہے اور زیادہ محنت چاہتا ہے۔آنحضرت کے ذمہ جو کام تھا۔وہ بے شک بڑا اہم کام تھا اور بڑی بڑی قربانیوں کو چاہتا تھا۔اور جب تک وہ لوگ قربانیاں نہ کرتے ہم تک یہ نور اور ایمان نہ پہنچتا۔یہ سارا نور اور ایمان ان کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے جو ہمیں ملا۔مگر آج ہماری جماعت کی قربانیاں بھی کم نہیں۔اگر سرعت کے ساتھ نتائج نہیں نکلتے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ ہمارے ذمہ لمبا کام ہے۔اس وقت اگر ہیضہ کے مریض تھے۔تو اب دق کے مریض ہیں اور دق کا مریض آہستہ آہستہ اچھا ہوتا ہے۔ہیضہ کا مریض دو دن میں تندرست ہو جاتا ہے۔اس زمانہ میں دق کے مریض کی طرح حالت ہے۔اس وجہ سے نہ اپنے اور نہ دوسروں کے نفوس کی اصلاح اس قدر جلدی ہو سکتی ہے بلکہ یہ اصلاح آہستہ آہستہ ہو سکتی ہے۔ضرورت صرف یہ ہے کہ محنت کے ساتھ لگے رہیں اور میں سمجھتا ہوں اگر اسی طرح لگے رہیں تو آہستہ آہستہ ہر ایک کی اصلاح ہو سکتی ہے۔پس مغضوب عليهم ولا الضالين کرتا۔