خطبات محمود (جلد 10) — Page 45
45 5 حضرت مسیح موعود کی بعثت کا خاص مقصد (فرموده ۲۹ جنوری ۶۲۶) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : دین میں ہر ایک وہ شخص جو خدا تعالٰی کی طرف سے الہام پا کر کھڑا ہوتا ہے۔اس کا کوئی نہ کوئی خاص مقصد اور کوئی نہ کوئی خاص مشن ہوتا ہے۔دنیا میں اکثر سچائیاں ابتدائے آفرینش سے ہی بنی نوع انسان پر ظاہر کر دی گئی تھیں۔لیکن باوجود اس کے کہ صداقتیں ابتدا سے ہی ظاہر کی گئی تھیں۔انسانی طبیعت چونکہ ایسی واقعہ ہوتی ہے کہ بغیر خاص طور پر کسی امر کے متعلق زور دینے کے اس کی طرف توجہ نہیں کرتی۔اس لئے خدا تعالیٰ نے زمانہ کے حالات اور ضروریات کو مد نظر رکھ کر ہر نبی اور مامور کے ذریعہ خاص خاص باتوں پر زور دیا ہے۔اس وقت مجھے اس بات کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں کہ پچھلے انبیاء کیا کیا مشن لائے۔وہ مشہور انبیاء جن کے سپرد خاص خاص کام ہوئے ان کے مشن دنیا پر ظاہر ہیں آج میں اس امر کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دنیا کے لئے کیا خاص مقصد اور مشن لے کر آئے تھے۔اس سے میری غرض یہ نہیں ہے کہ میں اس وقت وہ تعلیمات بیان کروں جو پہلے انبیاء دیتے آئے اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی دی ہیں۔بلکہ یہ غرض ہے کہ ہر نبی جو اپنے زمانہ میں بنی نوع کے اندر خاص خیال پیدا کرتا رہا ہے اور تمام انبیاء اپنے زمانہ کے لوگوں کی حالت دیکھ کر کوئی خاص خیال ان کے اندر جاگزیں کرنا چاہتے تھے ایسا ہی حضرت مسیح موعود نے کون سا خاص خیال دنیا میں پیدا کرنا چاہا ہے۔پھر میری غرض اس سے یہ بھی نہیں ہے کہ میں ان بدیوں یا ان نیکیوں کو بیان کروں جن کو دور کرنے یا جن کو پیدا کرنے کے لئے انبیاء آتے رہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام