خطبات محمود (جلد 10) — Page 298
298 اگر اس کے ساتھ اس کی دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالٰی کی تائید اور نصرت نہیں تو وہ لکچر کیا اثر رکھتا ہے۔تو دعا کو نکال کر مذہب کا کچھ باقی نہیں رہ جاتا۔اب دیکھو دنیا میں پہاڑ خوبصورت نظر آتے ہیں۔دریاؤں کا نظارہ خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔سبزہ زاروں کا منظر بہت بھلا معلوم ہوتا ہے۔لیکن ان میں انسان اپنی زندگی نہیں گزار سکتا۔تھوڑی دیر کے لئے تفریح کے طور پر دریاؤں اور پہاڑوں کے بے نقص نظاروں اور سبزہ زاروں کو پسند کرے گا اور اپنا دل بہلا لے گا۔لیکن ان میں زندگی نہیں گزار سکتا۔زندگی گزارنے کے لئے پھر انہیں لوگوں میں جائے گا جو زندہ ہیں۔وہ ان بے نقص اور بے عیب نظاروں کو چھوڑ کر عیب دار مگر زندہ انسانوں کے پاس ہی رہنا اور زندگی گزارنا پسند کرے گا کیونکہ انسانوں میں روح ہے۔زندگی ہے۔مگر دوسرے نظاروں میں زندگی نہیں گو وہ بے نقص ہیں۔اور وہ چیز جو جاندار ہے خواہ وہ عیبوں اور نقائص سے ہی بھری ہوئی ہو بے جان چیز پر فضیلت رکھتی ہے۔جب عیب دار جاندار کو ہم بے نقص غیر جاندار پر فضیلت دیتے ہیں۔تو ذی روح چیز جو خوبصورت اور بے نقص بھی ہے۔اس کو ہم غیر ذی روح چیز پر کیسے فضیلت دے سکتے ہیں۔پس جب تک کہ کسی تعلیم میں اللہ تعالٰی کا فضل اور اس کا رحم زندہ طور پر ہمارے شامل حال نہ ہو اس وقت تک وہ تعلیم زندہ نہیں کہلا سکتی زندہ مذہب وہی ہے کہ جس میں سب سے زیادہ زور دعا پر ہو۔اور جو لوگ دعا سے کام نہیں لیتے ان کی مثال ایسی ہی ہے کہ جیسے کوئی قبرستان میں بیٹھ جائے۔کون ایسا شخص ہے جو زندوں کو چھوڑ کر مردوں میں چلا جائے۔کیونکہ مردہ عمل کے زمانہ سے گزر گیا ہے۔اور اس کی روح قبرستان میں نہیں وہ تو خدا کے پاس ہے۔البتہ جسم قبرستان میں ہے۔اور وہ بغیر روح کے کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔جس چیز کی محبت کا ہمارے ساتھ تعلق ہے وہ تو زندہ چیز ہونی چاہئے اور مذہب میں سے زندہ چیز دعا ہے۔انسان جب دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی صفات ظاہر ہوتی ہیں۔اس کی نہاں در نہاں ہستی کو اپنے قریب پاتا ہے۔اور جب اس کی طاقتیں ظاہر ہوتی ہیں۔اس کا جلوہ نظر آتا ہے۔تو اس وقت پتے پتے میں زندگی نظر آتی ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ بندے کی دعا سنتا ہے تو اس وقت انسان کو مردہ چیز میں بھی زندگی نظر آنے لگتی ہے۔