خطبات محمود (جلد 10) — Page 299
299 حضرت مسیح علیہ السلام ایک دفعہ کہیں جا رہے تھے۔تو راستہ میں ایک مردہ کتا پایا گیا۔ان کے دوسرے ساتھیوں نے تو اس کی بدبو وغیرہ کا ذکر کیا لیکن حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا تم اس کی بری شکل کو تو دیکھتے ہو لیکن اس کے دانتوں کو نہیں دیکھتے کیسے سفید ہیں۔تو جو لوگ دعائیں کرنے والے ہوتے ہیں ان کو عیب نہیں نظر آیا کرتے بلکہ ان کی نظر خوبیوں پر ہی پڑتی ہے۔کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہیں اور جو لوگ خدا کو دیکھ لیتے ہیں وہ خود زندہ ہوتے ہیں۔ان کو اس کی مخلوق میں عیب کم نظر آتے ہیں اور جتنے جتنے عیب کسی میں نظر آتے ہیں اتنے حصہ میں وہ خود مردہ ہوتے ہیں۔نبیوں کو ہی دیکھ لو وہ مجسم خوبی ہوتے ہیں۔اس لئے ان کو لوگوں میں عیب نہیں نظر آتے۔وہ ہر چیز میں خوبی دیکھتے ہیں اس کی یہی وجہ ہے کہ وہ خود کامل زندہ ہوتے ہیں۔لیکن ان کے مقابل عیب دار لوگوں کو ان میں خوبیاں نظر نہیں آتیں بلکہ نقص ہی نقص نظر آتے ہیں اس کی یہی وجہ ہے کہ وہ خود مردہ ہوتے ہیں۔پس جس کو جتنے عیب کسی کے نظر آتے ہیں۔اس کو سمجھنا چاہئے کہ اتنا ہی وہ مردہ ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود سے خود سنا آپ فرماتے تھے کہ اگر غور کر کے دیکھا جائے تو کافر بھی رحمت ہوتے ہیں۔اگر ابو جہل نہ ہوتا تو اتنا قرآن کہاں اترتا۔اگر سارے حضرت ابو بکڑ ہی ہوتے تو صرف لا الہ الا اللہ ہی نازل ہوتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالٰی کے ہو جاتے ہیں۔ان کو ہر چیز میں بھلائی نظر آتی ہے۔ایک دفعہ لاہور میں ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو زور سے دھکا دیکر گرا دیا۔دوسرے دوست ناراض ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ اس نے مجھے جھوٹا سمجھ کر دھکا دیا ہے۔اگر وہ سچا سمجھتا تو کیوں ایسا کرتا۔اس نے تو اپنے خیال میں نیک کام کیا ہے۔اور حق کی حمایت کی ہے۔اب دوسرا اگر ہوتا تو ڈنڈا لے کر پیچھے پڑ جاتا لیکن آپ ہیں کہ ایک مخالف کی ایسی حرکت کو بھی برا نہیں مانتے بلکہ دوسروں کو فرماتے ہیں کہ اس نے تو نیک خیال سے حق کی خاطر ایسا کیا ہے۔اس کی یہی وجہ ہے کہ جو لوگ دعاؤں کے عادی ہوتے ہیں اور دعاؤں کے نتیجہ میں ان کو ہر چیز میں زندگی نظر آتی ہے۔تو ان کو عیب نہیں نظر آتے بلکہ نیکیاں اور خوبیاں ہی نظر آتی ہیں۔اسی وجہ سے بعض وقت ایسے لوگوں کو بے وقوف سمجھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ بیوقوفی کی وجہ سے لوگوں سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔حالانکہ اس کی وجہ بے وقوفی نہیں ہوتی بلکہ یہی