خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 295

295 کلام کا فیضان جاری ہے اور علوم کا سلسلہ چلا آتا ہے۔لیکن اگر ہم میں اس کے لئے قابلیت نہیں ہو گی تو ہم اس سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے کلام کو جذب کرنے کے لئے حضرت نبی کریم ﷺ نے بھی مثال کے رنگ میں لوگوں کی تین اقسام بیان کی ہیں۔ایک تو وہ لوگ ہیں جو اس زمین کی طرح ہیں کہ جو نہ تو پانی کو اپنے اندر جذب ہی کرتی ہے اور نہ ہی جمع رکھتی ہے۔اور ایک اس زمین کی طرح ہیں جو پانی کو اپنے اندر جذب تو کرتی ہے لیکن جمع نہیں رکھتی اور دوسروں کے لئے مفید نہیں۔اور بعض اس زمین کی طرح ہیں جو اپنے اندر جذب بھی کرتی ہے اور اتنا پانی جمع بھی رکھتی ہے کہ جس سے لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔تو تین قسم کے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ایک وہ ہیں جو نہ تو خدا تعالیٰ کے کلام اور علم کو جو پانی کی مثال ہے اپنے اندر لیتے ہیں۔اور نہ اپنے اندر اسے جمع رکھتے ہیں۔یعنی نہ تو خود اس کلام سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔اور ایک وہ لوگ ہیں کہ جو اپنے اندر اس کلام کو تو جذب کرتے ہیں۔اور خود اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں خود ترقی حاصل کرتے ہیں۔لیکن دوسروں کو فائدہ نہیں پہنچاتے پس اس مثال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تین مدارج کے لوگ پائے جاتے ہیں۔اور جتنی جتنی کوئی قابلیت اپنے اندر پیدا کرے گا اتنا ہی وہ کلام اور علم سے فائدہ اٹھائے گا اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچا سکے گا۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس قسم کی قابلیت پیدا کریں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کے علوم کو اپنے اندر جذب کریں۔اور پھر ان کو دنیا میں پھیلائیں۔کیونکہ حقیقی اور ابدی زندگی خدا کے کلام سے ہی حاصل ہوتی ہے۔اس لئے حضرت مسیح بھی فرماتے ہیں کہ انسان طعام سے زندہ نہیں بلکہ خدا کے کلام سے زندہ رہتا ہے۔جس کا یہی مطلب ہے کہ در حقیقت اللہ تعالیٰ کا کلام ہی زندگی بخش اور اس کے ہی علوم کام آتے ہیں۔لیکن جس طرح پانی کے لئے مصفی اور اعلیٰ ظرف کا ہونا ضروری ہے۔اسی طرح خدا کے کلام کے لئے بھی جس کو پانی سے تشبیہ دی گئی ہے۔عمدہ اور صاف ظرف کا یعنی اعلیٰ قابلیت کا ہونا ضروری ہے۔اور وہ ظرف وقت کے مامور اور نبی کی تعلیم پر چلنے سے ہی مصفی اور عمدہ ہو اسی لئے مامور کی تعلیم سے استفادہ کی بہت بڑی ضرورت ہے۔پس کیوں نہیں تم اپنے ظروف کو اعلیٰ اور وسیع بناتے۔کیا پانی بغیر ظرف کے کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے اور کسی استعمال میں آسکتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کے کلام اور مامور کی تعلیم سے استفادہ بغیر اس کی تعلیم پر چلنے اور اپنے اندر عمدہ قابلیت