خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 294

294 خود اللہ تعالیٰ کی ذات بھی ایک صداقت ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ کی باقی صفات فاصلیت کا رنگ اپنے اندر رکھتی ہیں۔اور فاعل کے معنی دیتی ہیں۔مثلاً وہ رحمان ہے۔یعنی رحم کرنے والا لیکن صداقت فاعل کے معنوں میں نہیں بولی گئی۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے متعلق آتا ہے۔الحق۔کہ وہ۔ایک صداقت ہے۔وہ حق ہے۔جو ازلی ابدی ہے۔لیکن اللہ تعالٰی بھی باوجود اس کے کہ ایک صداقت ہے جو ازلی ابدی ہے۔ہمیشہ اپنی صفات بندوں کے ذریعہ ہی ظاہر فرماتا ہے۔اپنے بندوں پر علوم کھولتا ہے۔اور اپنی تجلیات ظاہر کرتا ہے۔اور اس کے ذریعہ ہی اپنی ہستی کا ثبوت دیتا ہے۔اور جس طرح وہ اپنی باقی صفات بندوں کے ذریعہ ظاہر فرماتا ہے۔اسی طرح وہ اپنا کلام بھی بندوں کے دلوں اور دماغوں میں نازل کرتا اور اپنا کلام پاک قلوب میں الہام کرتا ہے۔پھر آگے ان کے ذریعہ وہ کلام دنیا میں ظاہر ہوتا اور نتائج پیدا کرتا ہے۔میرا اپنا یہی عقیدہ اور یہی مذہب ہے کہ اللہ تعالی کا کلام ہمیشہ سے جاری چلا آتا ہے اور جاری رہے گا۔اور اس کے کلام کے ظروف بھی ہمیشہ پائے جاتے ہیں اور ہمیشہ پائے جائیں گے۔اور وہ ظروف اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اولیاء و صلحاء ہیں۔جس طرح ہر زمانہ میں اس کی صفات کا ظہور ہوتا ہے۔اور مختلف چیزوں کے ذریعہ اس کی صفات ظاہر ہوتی ہیں۔مثلاً اس کا علم ہے۔اس کی ہر زمانہ میں تجلیات مختلف رنگوں میں دیکھنے میں آتی ہیں۔اس زمانہ میں بھی جس قدر ایجادات ہو رہی ہیں وہ سب در حقیقت اس کے علم کا ظہور ہیں۔اس کے علم کا نتیجہ ہیں اس کے علوم نے دماغوں پر اپنا عکس ڈالا تب یہ ایجادیں نکلیں۔اسی طرح اس کا کلام بھی ہر زمانہ میں دلوں پر نازل ہوتا ہے اور ان کے ذریعہ اس کے کلام کا ظہور ہوتا ہے۔ہاں ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ اس کے کلام کے حصول کے لئے قابلیت اور استعداد پیدا کی جائے۔جیسی تار کے وصول کرنے اور اسے سننے کے لئے اہمیت کی ضرورت ہے۔تار گھر تو موجود ہے۔لیکن اگر تار کو سننے والا اور حاصل کرنے والا نہ ہو تو کس طرح اس سے فائدہ حاصل ہو گا۔اس کے سننے کے لئے تو قابلیت کی ضرورت ہے۔جب تک وہ قابلیت اپنے اندر پیدا نہ کی جائے تب تک اس سے فائدہ نہیں حاصل ہوتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو تار کا سلسلہ برابر جاری ہے۔اس کا کلام ہر زمانہ میں نازل ہو سکتا ہے۔لیکن اس کے سننے کے لئے اور اس کا حامل بننے کے لئے بھی تو پہلے قابلیت اور استعداد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے تو