خطبات محمود (جلد 10) — Page 281
281 بڑی سچائی مخفی ہے۔مشہور ہے کہ ایک دفعہ چوہوں نے مشورہ کیا کہ یہ بلی جو ہر روز ہمیں تنگ کرتی ہے۔اس کا کوئی علاج کرنا چاہئے۔آخر یہ ہے تو ایک ہی اور اس کے مقابل ہم کافی تعداد میں ہیں۔ہم اگر سارے مل کر اس کا مقابلہ کریں اور اسے پکڑ کر ایک دفعہ اس کا فیصلہ کر دیں تو وہ ایک ہمارے مقابلہ میں کیا کر سکتی ہے اور کہاں تک ہمیں مارے گی۔کسی نے کہا کہ میں اس کی ٹانگ پکڑ لوں گا۔کسی نے کہا میں اس کی دوسری ٹانگ پکڑ لوں گا۔ایک نے کہا میں اس کا منہ پکڑ لوں گا۔غرض اس طرح انہوں نے اپنے حصہ بلی کے پکڑنے کے لئے ایک کام لے لیا اور خیال کیا کہ بس اب بلی ماری گئی۔ہم جب سارے مل کر کام کریں گے تو اس کے مارے جانے میں کیا شک ہو سکتا ہے۔اور بظاہر یہ درست معلوم ہوتا ہے کہ وہ واقعہ میں بلی کو مارنا چاہیں تو اس طرح وہ ضرور اسے مار سکتے ہیں۔لیکن جو چیز انہوں نے نہیں سوچی تھی وہ ہلی کا رعب تھا۔اس اکیلی کا رعب اپنے اندر اس قدر طاقت رکھتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں ہزاروں چوہوں کی طاقت کچھ حقیقت نہیں رکھتی۔اسی وجہ سے جو ان میں سے دانا تھا اس نے بھی یہی کہا کہ بے شک تم سب مل کر اسے پکڑ لو گے لیکن یہ تو پہلے بتاؤ کہ اس کی میاؤں کو کون پکڑے گا۔کیونکہ جب وہ ابھی میاؤں ہی کرے گی تو نہ تمہارے ہاتھوں میں طاقت رہے گی نہ تمہارے پاؤں میں طاقت رہے گی۔تو یہ لطیفہ در حقیقت اس بات کے بیان کرنے کے لئے بطور مثال بنایا گیا ہے کہ جو کام رعب دنیا میں کرتا ہے وہ طاقت اور قوت نہیں کر سکتی۔اس لئے رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ میرا رعب دلوں پر بٹھا دیا گیا ہے اب جہاں میں جاتا ہوں دشمن کا دل کانپ اٹھتا ہے اور وہ اپنی طاقت کو بھول جاتا ہے۔اس کے خیالات منتشر ہو جاتے ہیں۔اور وہ میرے سامنے ایک بچہ کی حیثیت میں ہو جاتا ہے۔پس پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ غالب آنے والی قوم کو دیتا ہے وہ رعب ہے۔اس قوم کو رعب دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر چیز پر غالب ہوتے چلے جاتے ہیں اور کوئی چیز ان کے مقابلہ پر نہیں ٹھرتی۔اب دیکھو ایک پولیس مین کے آنے پر یا ایک معمولی افسر کے آنے پر سب پر رعب طاری ہو جاتا ہے۔حالانکہ وہ اکیلا ہوتا ہے۔اس کی یہی وجہ ہے کہ اس کے پیچھے حکومت کا رعب ہوتا ہے۔تو اب اللہ تعالٰی نے اپنی طرف سے ہمارے لئے ایسے سامان تو پیدا کر دیئے ہیں کہ جس سے سلسلہ کا رعب قائم ہو گیا ہے۔چنانچہ یورپ کے لوگوں نے بھی اس بات کو لکھا ہے کہ امیر فیصل کے روکنے کی یہ وجہ بھی ہے کہ دوسرے مسلمانوں کے دل اس بات کو دیکھ کر جل گئے ہیں کہ وہ باوجود