خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 257

257 آج ساری دنیا کا خدا ہی ایسا خدا بنا ہوا ہے۔یہ صرف بھوپال پر ہی منحصر نہیں کہ اس نے خدا کو ایک وقت اس قسم کا خدا سمجھا بلکہ آج تمام دنیا کے لوگ اسے ایسا ہی سمجھ رہے ہیں۔اور ان چند پاک لوگوں کو چھوڑ کر جن کے دلوں میں خدا تعالی کی خشیت ہے اور جن کے اندر اس کی محبت ہے باقی سب کا خدا ایسا ہی ہے۔دنیا کیڑے پتنگے کی بھی عزت کرتی ہے اور ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو کسی کی محبت میں روتے ہیں مگر قرآن کی اتنی عزت بھی ان کے دلوں میں نہیں اور جو لوگ اس کی عزت کرتے ہیں اور اس کی محبت جتاتے ہیں اور اس کا ادب کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں وہ حقیقت میں اس کی عزت کے لئے عزت نہیں کرتے وہ حقیقت میں اس کے ادب کے لئے ادب نہیں کرتے بلکہ وہ صرف دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں وہ صرف دنیا میں عزت پانے کے لئے اس کی عزت کرتے ہیں۔وہ اس لئے اس سے محبت کرتے ہیں کہ وہ قوم میں عزت حاصل کریں اور قوم کی طرف سے محبت کئے جائیں۔وہ قرآن کی اتنی ہی عزت اور محبت کرتے ہیں جتنی فریبوں اور دھوکوں میں کام آجائے۔وہ صرف اس لئے اس کی عزت کرتے ہیں کہ وہ ان کی قسمیں کھانے میں کام آئے ورنہ قرآن کی عزت و عظمت کے برابر وہ ایک پھٹے پرانے کپڑے کے چیتھڑے کی عزت و عظمت کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔وہ حقیقت سے کوسوں دور جا پڑے ہیں۔اور نور سے دور ظلمت میں بھٹک رہے ہیں۔بسا اوقات گاؤں کے کتے کے ارد گرد لوگ جمع ہو جاتے ہیں جو ایک جانور سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا اور جانور بھی وہ جانور جو پرلے درجے کا نجس جانور ہے۔لیکن نہیں اگر جمع ہوتے تو اس کے لئے نہیں جمع ہوتے جو زمین اور آسمان کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔جو دنیا میں لوگوں کے لئے ہدایت کے سامان بہم پہنچانے والا خدا ہے۔ایک گاؤں کے بچے اور لوگ کتے سے تو کھیلتے ہیں اور اس کے لئے اگر وہ گم ہو جائے یا مرجائے تو رنج محسوس کرتے ہیں۔لیکن افسوس خدا تعالیٰ کا نام لینے والے دنیا بھر سے عنقا ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ خدا تعالی کی حقیقی عظمت اور شان سے لوگ غافل ہیں۔کہاں گئے وہ دن کہ اسلام دنیا کو جذب کر رہا تھا۔کہاں گئیں وہ راتیں کہ نور خدا کی پھوہار برستی ہوئی نظر آ رہی تھی۔کہاں گیا وہ زمانہ کہ لوگ قرآن کی عظمت کے قائل تھے۔کہاں گیا وہ وقت کہ اسلام کے دشمن بلکہ اشد ترین دشمن بھی اسلام اور قرآن کی خوبیوں کے قائل تھے۔یہودیوں کے ایک عالم نے حضرت عمرؓ سے ایک دفعہ بیان کیا کہ حسرت آتی ہے یہ دیکھ کر کہ آپ کے پیغمبر نے کوئی بات ایسی نہیں چھوڑی جس کے متعلق کچھ نہ کچھ بیان نہ کر دیا ہو۔ہمیں اگر کسی امر کے متعلق ضرورت پڑتی ہے اور ہم اپنی کتاب کو اٹھا کر دیکھتے ہیں تو نہیں ملتی اور آپ کی کتاب میں مل جاتی ہے۔غرض ایک تو وہ دن تھے کہ کافر بھی بار بار کہہ اٹھتے تھے کہ کاش ہم بھی مسلمان