خطبات محمود (جلد 10) — Page 14
14 ہوتا۔مگر ہم باوجود کمزور ہونے کے کئی ہیں اور کئی میں اختلاف اور انشقاق پیدا ہو جاتا ہے۔اور جب کسی جماعت میں اختلاف اور انشقاق پیدا ہو جائے تو اس میں ایک آدمی جتنی طاقت بھی نہیں رہتی۔دیکھو رسول کریم انا ایک تھے اور آپ نے ساری دنیا کو فتح کر لیا۔مگر مسلمان آج کروڑوں ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔کیونکہ ان میں اختلاف ہے۔تو ہمارا ضعف بہت بڑھا ہوا ہے۔ان حالات میں ہمارا اپنے اصلی مقصد کو بھلا دینا اور اپنی توجہ کو مختلف باتوں میں بانٹ دینا اس قدر مہلک اور خطرناک ہے کہ اس سے زیادہ اور کوئی چیز خطرناک نہیں ہو سکتی۔پس اے عزیزو! اور اے دوستو! اس فکر اس قربانی اور اس گداز کر دینے والی محبت کو یاد کرتے ہوئے جس کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری پرورش کی ہے اس کام کی طرف توجہ کرو جس کام کے لئے خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔اور اپنے مقصد کو ایک منٹ کے لئے بھی مت بھلاؤ تاکہ خدا تعالیٰ کی نصرت تمھارے لئے اس رنگ میں ظاہر ہو کہ دنیا کے لوگ جو اپنے آپ کو بہت بڑا اور بہت طاقتور سمجھتے اور خیال کرتے ہیں کہ وہ اپنی طاقت اور قوت کے ذریعہ ہمیں تباہ کر دیں گے۔دیکھتے کے دیکھتے رہ جائیں اور وہ دن آجائے کہ اسلام کی سیاست اسلام کا تمدن اسلام کی صداقت دنیا میں قائم ہو جائے اور اکناف عالم میں وہ تعلیم جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پھیلانا چاہتے تھے پھیل جائے۔میں سمجھتا ہوں مجھے اس سے زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۔مجھے یقین ہے کہ خد اتعالیٰ اسلام کو کامیاب کرے گا۔ہاں اگر فکر ہے تو یہ کہ کامیابی ہمارے ہاتھ سے ہوگی یا ہم سے بعد میں آنے والوں کے ہاتھ سے۔ہمیں اطمینان اور خوشی اسی وقت ہو سکتی ہے جبکہ ہم بھی اس برکت میں حصہ دار ہوں۔اگر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اس لئے سوال کیا تھا کہ اطمینان قلب حاصل ہو تو ہم کون ہیں جو اس سے لاپرواہ ہوں۔اگر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کہا تھا کہ میں خدا کی طاقتوں پر ایمان لاتا ہوں۔مگر ان کا مشاہدہ کرنا چاہتا ہوں۔تاکہ مجھے فائدہ پہنچے ۲؎ - تو ہم کون ہیں جنہیں اس بات کی ضرورت نہ ہو۔پس اس میں شک نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم دنیا میں پھلے گی۔حضرت مسیح موعود کو ماننے والے ساری دنیا میں پھیل جائیں گے۔قرآن کریم کی تعلیم پھیل جائے گی۔لیکن اگر ہمارے ذریعہ نہ پھیلی تو ہمیں کیا فائدہ۔اسے خود غرضی نہیں کہا جا سکتا۔خود غرضی اس وقت ہوتی ہے جب دوسروں کو اس فائدہ سے محروم کرنے کی کوشش کی جائے۔مگر اس میں یہ بات نہیں ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں دینی اور روحانی ترقیات غیر محدود ہیں۔اگر ہم سے پہلے لوگوں کی دینی ترقیات نے ہمیں ان کے حاصل کرنے سے محروم نہیں کر دیا۔تو جو لوگ