خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 133

133 15 قومی ترقی اور عروج کے زریں اصول (فرموده ۱۶ اپریل ۱۹۳۶) تشهد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : اگرچہ میں طبیعت کی علالت کی وجہ سے زیادہ تو نہیں بول سکتا۔لیکن چونکہ میں سمجھتا ہوں کہ خطبہ جمعہ پڑھانا جہاں تک ممکن ہو میرے لئے ضروری ہے۔اس لئے اختصار کے ساتھ میں کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔دنیا میں جب کوئی نئی تحریک پیدا ہوتی ہے۔اور نیا سلسلہ قائم ہوتا ہے۔تو اس کے ساتھ قربانیاں لازمی اور ضروری ہوتی ہیں۔کیونکہ بغیر قربانی کے کوئی قوم نہ قوم بنی ہے اور نہ بن سکتی ہے۔جو لوگ عاجل فوائد کو آجل فوائد کے مقابل مقدم کرتے ہیں وہ کبھی دنیا میں زندہ رہنے کے مستحق نہیں ہو سکتے۔یہ ایک وہم اور دھوکہ ہے کہ اگر ہم قربانیاں کریں گے تو تباہ و برباد ہو جائیں گے۔ابھی تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ ایک دوست نے میری طرف خط لکھا کہ اسلام نے دولت حاصل کرنے کے کیا قواعد مقرر کئے۔اور کیا طریق بتائے ہیں۔اگر کوئی طریق نہیں بتائے۔تو جماعت پر چندوں کا جو بوجھ پڑ رہا ہے اس سے خطرہ ہے کہ قوم تباہ نہ ہو جائے۔انگریزی میں ایک لفظ فالسی (FALLACY) ہے۔جس کا یہ مطلب ہے کہ بظاہر ایک دلیل نہایت سچی اور خوبصورت معلوم ہوتی ہے۔لیکن در حقیقت اس سے زیادہ کوئی جھوٹی بات نہیں ہوتی۔اسی طرح یہ خیال بھی بظاہر تو بہت خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔لیکن دراصل یہ نفس کا ایک دھوکہ اور فریب ہے۔یہ خیال کہ اگر ہم قربانی کریں گے تو اس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ ہم تباہ اور ذلیل ہو جائیں گے۔ایک غلط اور ترقی کے لئے تباہ کن خیال ہے۔کبھی کوئی ایسی قوم برباد نہیں ہوئی جو ہر قسم کی قربانیوں کے لئے آمادہ ہو۔اور وہ