خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 132

132 طرف متوجہ کرتی ہے۔مگر دوسری طرف اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی کا انجام اچھا نہیں ہو گا تو معلوم ہوا۔اس کی ابتدا بھی اچھی نہ تھی۔اور اس کی ابتدائی خدمات نیک نیتی اور خلوص پر مبنی نہ تھیں۔پس لیلتہ القدر سے یہ سبق مل سکتے ہیں۔اول یہ کہ جو انسان خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ ابتدا سے کام کرے گا۔اس کا انتہا اچھا ہو گا۔اور دوم یہ کہ اگر کسی کے لئے لیلتہ القدر کی حالت پیدا نہیں ہوتی۔تو معلوم ہوا۔گو اس کا پہلا زمانہ بظاہر اچھا معلوم ہوتا تھا۔اور وہ اچھے کام کرتا نظر آتا تھا۔مگر اس میں کچھ ایسے نقص تھے کہ جن کی وجہ سے اس کی خدمات قبول نہ ہوئیں۔اور خدا تعالیٰ نے اس کے اعمال کے تسلسل کو جاری نہ رہنے دیا۔ان دو سبقوں کے ماتحت دوستوں کو صرف رمضان میں ہی نہیں اور رمضان کے آخری عشرہ میں ہی نہیں بلکہ بعد میں بھی لیا تہ القدر کو تلاش کرنا چاہئے۔اور اپنی زندگی کے آخری عشرہ کے لئے ایسے سامان مہیا کرنے چاہیئیں کہ انہیں لیلتہ القدر کے فیوض حاصل ہو سکیں۔اور ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی زندگی کے پہلے ایام میں تو کام کریں۔لیکن انجام کے وقت جب ان میں کام کرنے کی طاقت نہ رہے۔تو خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ مدد حاصل نہ ہو جو اپنے محبوب بندوں کو دیتا اور جو پنشن کے طور پر اس کی طرف سے ملتی ہے۔اس وقت وہ اپنا خاص فضل نازل کرے۔اور اپنے برکات کا وارث بتائے یہی سبق ہے جو خدا تعالیٰ لیلتہ القدر سے مومنوں کو دیتا ہے۔اور اس کے حاصل کرنے کے لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم رمضان کی لیلتہ القدر سے بھی فائدہ اٹھائیں۔اور انسان کی زندگی کی جو لیلتہ القدر ہوتی ہے۔اس سے بھی مستفیض ہوں۔ہم خدا تعالیٰ کی گود میں ہوں اور ہمارا آخری انجام اسی طرح ہو جس طرح لیلتہ القدر کے متعلق وعدہ کیا گیا ہے۔(الفضل ۱۳ اپریل ۱۹۲۶ء)