خطبات محمود (جلد 10) — Page 124
124 تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔جب میرے بندے میرے متعلق سوال کریں تو اس کی غرض خدا کو اپنانا ہو نہ کہ کوئی اور چیز حاصل کرنا۔پس جو سوال کرے اور کچھ مانگے اس کی حرص پر بنیاد نہ ہو بلکہ محبت پر ہو۔وہ سمجھے اگر فلاں چیز نہیں ملتی تو نہ ملے خدا سے باتیں تو ہو جائیں گی۔میں اس قسم کی ایک مثال سناتا ہوں۔جس سے محبت کا ثبوت ملتا ہے۔رسول کریم ﷺ کے وصال کا وقت جب قریب آیا اور آپ نے بعض رویا کی بنا پر معلوم کر لیا کہ میری وفات قریب ہے۔تو آپ نے مجلس میں فرمایا۔میں چاہتا ہوں مجھ پر کسی کا حق نہ رہے۔اس لئے اگر کسی کو مجھ سے کوئی ایسی تکلیف پہنچی ہو جو ناجائز ہو تو آج مجھ سے اس کا بدلہ لے لے تا قیامت کے دن مجھ پر اس کا حق نہ رہے۔صحابہ نے مختلف کیفیات قلبی کے ماتحت اس بات کو مختلف رنگ میں سمجھا اور فائدہ اٹھایا۔کسی نے تو اس سے یہ سمجھا کہ اب آپ کی وفات کا وقت قریب ہے کسی نے سمجھا کیا اعلیٰ بات فرمائی ہے۔کسی نے سمجھا کیا اعلیٰ سبق دیا ہے۔دوسروں کے حقوق ادا کرنے کا۔غرض ہر ایک نے اپنے اپنے رنگ میں فائدہ اٹھایا کہ اسی دوران میں ایک صحابی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ایک دفعہ مجھے آپ سے تکلیف پہنچی تھی۔میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔یہ سن کر صحابہ کی آنکھوں میں خون اتر آیا ہو گا۔انہوں نے خیال کیا ہو گا۔اس نے کیسی بیہودہ بات کہی ہے۔اور رسول کریم ﷺ کی کس قدر گستاخی کی ہے۔کئی اس پر دانت پیتے ہوں گے۔کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے وقت ہی اسے اپنا بدلہ لینے کا خیال آیا۔اور اس کا اس نے مطالبہ کر دیا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔اچھا بتاؤ کیا بات ہے۔اس نے کہا یا رسول اللہ ایک دفعہ آپ جنگ کے موقعہ پر صف بندی فرما رہے تھے تو آپ کی کمنی میری پیٹھ پر لگی تھی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا لو تم بھی مار لو۔اس نے کہا یا رسول اللہ اس وقت میرا بدن نگا تھا مگر آپ کے جسم پر کپڑا ہے۔آپ نے کپڑا اٹھا دیا اور کہالو اب مار لو۔یہ دیکھ کر اس صحابی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔اور اس نے رسول کریم ان کے جسم مطہر کو بوسہ دیتے ہوئے کہا۔میں نے سمجھا تھا حضور کی وفات قریب ہے۔پھر اس مبارک جسم کے دیکھنے کا موقعہ نہ ملے گا۔اس لئے ایک دفعہ تو اسے چوم لوں اے الله دیکھو اس صحابی کا بھی یہ مانگنا تھا۔اور اپنا حق مانگنا تھا۔مگر اس کی اصل غرض رسول کریم کے جسم مبارک کو دیکھنا اور بوسہ دینا تھی۔تو بسا اوقات انسان ایک چیز مانگتا ہے۔مگر اس کی غرض قرب اور محبت حاصل کرنا ہوتی ہے۔میں نے دیکھا ہے۔باہر سے دوست آتے ہیں۔اور کہتے ہیں بہت ضروری کام ہے۔جس کے لئے ملنا چاہتے ہیں۔لیکن جب ملتے ہیں تو کہتے ہیں یہی کام تھا کہ