خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 125

125۔آپ سے ملنا چاہتے تھے۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اذا سألك عبادی عنی فانی قریب جس وقت میرے بندے میری بابت سوال کریں یہ سوال نہیں کہ یہ ملے اور وہ ملے۔بلکہ ان کا اصل مقصد یہ ہو کہ خدا ملے۔باقی جو کچھ ملے وہ سب زائد ہے۔تو ان سے کہو میں ان کے قریب ہوں۔ف بسا اوقات نتیجہ کے لئے آتی ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ جتنی تڑپ ہو کہ خدا کہاں ہے۔اتنا ہی خدا نزدیک ہوتا ہے۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔میرا حاصل کرنا مانگنے پر منحصر ہے۔مجھے پکارو تو میں آجاؤں گا۔میں تو خود اس کا منتظر ہوں کہ آواز دو تو میں آؤں۔ایک دفعہ میں نے ایک رویا دیکھی۔اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا۔میں نے دیکھا۔حضرت عیسی ایک بچہ کی شکل میں ہیں۔ایک چبوترہ ہے جس کی سیڑھیاں سنگ مرمر کی ہیں۔وہ اس قسم کا چبوترہ ہے جس قسم کا امرت سر میں ملکہ وکٹوریا کے بت کا ہے۔اس چبوترہ سے ایک سیڑھی نیچے ، حضرت عیسیٰ کھڑے ہیں۔اور آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔تو نظر آیا۔آسمان سے ایک عورت اتری ہے جس کے پر لگے ہوئے ہیں۔اور بہت خوبصورت رنگوں کا لباس پہنے ہوئے ہے۔وہ حضرت مریم ہیں۔وہ بچہ کے پاس آکر کھڑی ہو گئی ہیں۔اس وقت بچہ نے گھٹنہ ٹیک کر اپنا سر آگے کر دیا ہے۔اور وہ کچھ نیچے جھکی ہیں اور بچہ کو پیار دیا ہے۔اس وقت یہ الفاظ میری زبان سے نکلے Love Creats Love کہ محبت محبت سے پیدا ہوتی ہے۔تو جب انسان خدا تعالیٰ کو پکارتا ہے۔تو پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے رحمت جاری ہوتی ہے۔مگر فرمایا اُجیب دعوة الداع اذا دعان فليستجيبوا لی ولیومنوا ہی کہ دو شرطیں ہیں۔ایک تو یہ ہے کہ استجابت ہو جس طرح بتایا گیا ہے اس طرح مانگیں اور دوسری یہ کہ یقین ہو کہ ضرور دوں گا۔ولیومنوا ہی سے یہاں مراد ایمان نہیں ہے کیونکہ جو دعا مانگے گا وہ ایمان لایا ہی ہو گا تب وہ مانگے گا۔یہاں ایمان کے معنی یقین کے ہیں۔بسا اوقات انسان دعا مانگتا ہے مگر اس کی حالت شبہ کی ہوتی ہے۔یا وقتی طور پر یقین پیدا ہوتا ہے۔اگر اس کی دعا قبول نہ ہو تو کہتا ہے قبول ہو ہی نہیں سکتی حالانکہ ایسا ہوتا ہے کہ بعض اوقات دعا کا قبول نہ ہوتا ہی اس کے لئے مفید ہوتا ہے۔اور اگر اسی طرح دعا قبول ہو جائے جس طرح وہ مانگتا ہے تو وہ کئی گناہوں میں مبتلا ہو جائے۔اس کی دعا کو خدا تعالٰی عبادت قرار دے دیتا ہے۔اور اس رنگ میں قبول نہیں کرتا۔جس طرح اس کی خواہش ہوتی ہے مثلاً مقدمہ ہے۔ایک شخص دعا کرے کہ مجھے اس میں کامیابی ہو۔مگر اس کامیابی میں دوسرے کا حق اس کے قبضہ میں آتا ہو۔تو خدا تعالیٰ اس کو دوسرے کا حق نہ دیدیگا۔مگر اس کی یہ عبادت رد نہ کرے گا۔کہے گا دوسرے کا