خطبات محمود (جلد 10) — Page 91
91 سکتے کہ وہ یہ خیال کر لیں ان پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا جبکہ وہ دیکھتے ہیں کہ خدا جیسی بے عیب ذات پر بھی اعتراض کرنے والے اعتراض کرتے ہیں۔پس جب خدا پر اور اس خدا پر جسے اسلام پیش کرتا ہے اعتراض کرنے والے اعتراض کرتے ہیں۔تو وہ کس طرح خیال کر سکتے ہیں کہ وہ خدا سے بھی بڑھ کر بے عیب ہیں کہ ان پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔پس اگر ذرا بھی وہ عقل سے کام لیتے تو سمجھ سکتے تھے کہ میں جو ان کے مقابل اکثر خاموش رہتا ہوں۔تو میری اس خاموشی کی وجہ یہ نہیں کہ میں ان کے اعتراضات کے جواب نہیں دے سکتا اور میرے پاس دلائل نہیں۔پھر وہ یہ بھی خیال کر سکتے تھے کہ ان کی ذات اس قدر بے عیب نہیں کہ ان پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔بلکہ میری خاموشی کی وجہ میرا طبعی میلان ہے۔اور اسی وجہ سے اپنے دوستوں کو بھی اخباروں میں ذاتیات میں پڑنے سے روکتا رہتا ہوں۔خود میں نے کبھی ذاتیات پر بحث نہیں کی۔اور سوائے شاذ و نادر کے ان کے ایسے اعتراضوں کے جواب نہیں دیئے۔اور جو دیئے۔وہ بھی اس وقت جبکہ بعض لوگوں کے ایمان کا خطرہ تھا۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ شرافت سے اس قدر عاری ہو جاتے ہیں کہ خاموشی کو شکست اور نرمی کو بزدلی اور عفو کو کمزوری خیال کر لیتے ہیں۔جب وہ مقابل سے خاموشی دیکھتے ہیں۔یہی روش غیر مبایعین نے اختیار کر رکھی ہے۔وہ روز بروز ایسے حملوں میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔حالانکہ میں جانتا ہوں کہ پچھلے دو سال میں ایک سطر یا ایک اشارہ بھی میرے خطبات میں سے کسی غیر مبایع کے متعلق ایسا نہیں دکھا سکتے۔جس میں کسی قسم کا حملہ کیا گیا ہو۔ایسی حالت میں ان کے برابر بڑھتے چلے جانے کی وجہ یہی ہے کہ ان کے ذاتی اعتراضات کا ہماری طرف سے جواب نہیں دیا جاتا۔بعض دفعہ ان کے معززین جب ملے ہیں۔تو انہوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ آپس میں ایک دوسرے پر اعتراضات نہ کئے جائیں۔اور باہمی صلح کر لی جائے۔کیونکہ اعتراضات سے سلسلہ کو نقصان پہنچتا ہے۔اس کے متعلق میں نے ہمیشہ آمادگی ظاہر کی ہے۔لیکن ان کی یہ خواہش کبھی سچی ثابت نہیں ہوئی۔یہی دیکھ لو گذشتہ ڈیڑھ دو سال میں ایک خطبہ بلکہ کسی خطبہ میں کوئی فقرہ بھی ان کے خلاف میرے منہ سے نہیں نکلا۔لیکن اس کے مقابل ان کے پریذیڈنٹ اور ان کے امیر نے اپنے کئی خطبات اور تقریروں میں مجھ پر ذاتی حملے کئے ہیں۔اب ایک طرف ان کے امیر کا اس طرح غیر شریفانہ اعتراضات کرنا۔اور دوسری طرف یہ کہنا کہ آؤ صلح کرلیں۔ذاتی اعتراضات سے بڑا نقصان پہنچا ہے۔یہ ان کی نیتوں اور ارادوں پر بخوبی روشنی ڈالتا ہے۔بھلا اس طرح بھی کبھی صلح ہو سکتی