خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 90

90 خاموشی ہوگی تو وہ ایسے کمینہ حملوں سے خود ہی باز آجائیں گے لیکن باوجود اس کے غیر مبایعین کی طرف سے میرے خلاف ہمیشہ مضامین نکلتے رہتے ہیں۔جن میں وہ مجھے پر ذاتی حملے کرتے رہتے ہیں اور اب وہ اس میں بہت بڑھ گئے ہیں۔اگر پچھلے چند سال کے میرے خطبات اور مضامین نکال کر دیکھے جائیں۔تو معلوم ہو سکتا ہے کہ جس کثرت سے غیر مبایعین نے میرے خلاف لکھا ہے۔اس کے مقابلہ میں دسواں حصہ بھی میرے خطبات میں ان کے متعلق نہیں کہا گیا۔اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ مجھے ان کے اعتراضات پر اطلاع نہیں ہوتی اور نہ میں یہ خیال کر سکتا ہوں کہ کسی کو یہ خیال ہو گا کہ ان کے اعتراضوں کا کوئی جواب ہی نہیں دیا جا سکتا۔اور نہ ان پر کوئی اعتراض ہو سکتا ہے۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں۔اعتراض کرنے والے تو لا الہ الا اللہ پر بھی اعتراض کر دیتے ہیں۔پس اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ غیر مبایعین جو کچھ لکھتے ہیں وہ درست ہوتا ہے تو بھی یہ نہیں خیال کیا جا سکتا کہ ان پر کوئی اعتراض ہی نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ ان کی باتیں لا الہ الا اللہ سے تو زیادہ سچی نہیں ہو سکتیں۔بیشک وہ یہ تو خیال کر سکتے ہیں کہ میں ان کی نظر میں حق سے دور لے جانے والا ہوں۔لیکن وہ یہ نہیں خیال کر سکتے کہ ان کی باتوں کا کوئی جواب ہی نہیں ہو سکتا۔جب کہ دنیا میں ہر ایک بات کا جواب دیا جاتا ہے اور بچی سے سچی بات کے جواب میں بھی اعتراض کئے جاتے ہیں۔پس میری خاموشی اس وجہ سے نہیں کہ میں ان کی باتوں کا جواب نہیں دے سکتا۔اور ان پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔بلکہ اس طبعی امر کی وجہ سے ہے کہ میں حتی الوسع ذاتیات میں نہیں دخل دینا چاہتا اور ذاتیات کی طرف جانا پسند نہیں کرتا۔نزدیک دوسرے پر اعتراض کرنے اور دوسرے کی ذات پر حملہ کرنے سے تقویٰ اور بڑائی ثابت نہیں ہو سکتی۔بلکہ یہ اپنے اعمال اور افعال سے ثابت ہوتی ہے ہم اگر کسی کو ذلیل سے ذلیل بھی ثابت کر دیں۔تو اس سے یہ نہیں ثابت ہو جائے گا کہ ہمارے اندر کوئی خوبی ہے۔اپنی خوبی اپنے کام سے ہی ثابت ہوگی۔پس نہ تو ہمارے مخالفین کا یہ خیال ہونا چاہئے کہ ہم ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دے سکتے اور نہ ان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ہم پر ناپاک حملے اور اعتراض کرکے وہ اپنی خوبی اور بڑائی کا لوگوں کو قائل کر سکیں گے۔بے شک وہ اپنی باتوں کو سچا سمجھتے ہوں گے۔لیکن کم از کم وہ دنیا کے حالات سے اتنے تو ناواقف نہیں ہوں گے کہ دنیا میں ہر ایک بات کا جواب دیا جا سکتا ہے اور دیا جاتا ہے۔اسی طرح وہ اپنے آپ کو بے عیب خیال کرتے ہوں گے۔لیکن ایسے نادان تو نہیں ہو