خطبات محمود (جلد 10) — Page 81
81 9 حقیقی عبادت (فرموده ۵ مارچ ۱۹۲۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : قرآن کریم میں اس کی ام الکتاب یعنی سورہ فاتحہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور قدرت ہمیشہ جاری رہتی ہے۔دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔بعض خیال کرتے ہیں۔کہ دنیا میں جو کچھ کرتا ہے انسان ہی کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کا اس کے اعمال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اور بعض ایسے ہیں۔جو یہ خیال کرتے ہیں کہ سب کچھ خدا تعالیٰ ہی کرتا ہے۔بندہ کا اپنے اعمال سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں ان دونوں خیالوں کو رد فرماتا ہے۔چنانچہ سورہ فاتحہ میں ہی خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔کہو ایاک نعبد کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔تیری ہی بندگی اور عبودیت اختیار کرتے ہیں۔اب یہ دیکھنا چاہئے کہ عبودیت کیا ہوتی ہے، عبودیت کے یہ معنی نہیں کہ کوئی انسان نماز پڑھ لے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کو کسی کے نماز پڑھنے یا نہ پڑھنے سے کیا تعلق۔کیا کوئی ایسا شخص ہو سکتا ہے جو یہ کہے فلاں میرا غلام ہے۔کیونکہ وہ دن میں ایک دفعہ یا دو دفعہ یا تین دفعه یا چار دفعه سلام کر جاتا ہے۔نماز کیا ہے؟ خدا تعالیٰ کے حضور سلام اور حاضری ہے۔پھر کیا کبھی کوئی حاضری اور سلام سے غلام کہلا سکتا ہے۔اگر کوئی شخص کسی کو ایک دو بار نہیں بلکہ دس ہیں دفعہ سلام کر جاتا ہے۔لیکن اس کے احکام کی پابندی نہیں کرتا تو وہ کبھی اس کا غلام نہیں کہلا سکتا۔پس جب خدا تعالی سورہ فاتحہ میں یہ سکھاتا ہے۔کہ کہو ایاک نعبد کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔تو اس کا یہ منشا نہیں ہو سکتا۔کہ کوئی نماز پڑھ لے اور کچھ نہ کرے تو وہ عبد بن جائے گا۔کیونکہ ۲۴ گھنٹہ میں ۵ دفعہ سلام کو جانا عبودیت نہیں کہلا سکتی۔اتنی عبودیت تو دوست اپنے دوستوں کی یا محلہ والے ایک دوسرے کی بھی کر لیتے ہیں۔جب دن میں ایک دوسرے کو سلام کر لیتے ہیں۔