خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 82

82 اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے جس عبودیت کا حکم دیا ہے۔وہ اور ہی رنگ کی عبودیت ہے۔جس کے متعلق بندہ کہتا ہے کہ وہ اتنی بڑھی ہوئی ہے اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ اس کے مقابلہ میں یہ کہنا کہ کسی اور کی بھی اطاعت کرتا ہوں غلط ہے۔کیونکہ ایاک نعبد کے یہ معنی ہیں کہ انسان کہتا ہے میں تیری ہی عبادت کرتا ہوں لیکن اگر اس سے خدا تعالیٰ کے حضور حاضری اور سلام ہی مراد ہے۔تو اس سے زیادہ تو ایک انسان دن رات میں دوستوں سے ملاقات کر لیتا ہے۔اور اس کی بنا پر تو انسان یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اے خدا میں دوسروں کے مقابلہ میں تیرے لئے زیادہ وقت دیتا ہوں۔اور تیری ہی عبادت کرتا ہوں اور کسی کی نہیں کرتا۔کیونکہ اس قسم کی اطاعت تو وہ دوسروں کی بھی کرتا ہے۔وہ جتنا وقت خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے میں صرف کرتا ہے۔اس سے زیادہ دوستوں کی صحبت میں گذارتا ہے۔اور اگر انسان دیکھے تو اسے معلوم ہو جائے کہ دوسروں کے لئے وہ خدا تعالی کی نسبت بہت زیادہ وقت صرف کرتا ہے۔اگر وہ کسی جگہ نوکر ہے تو اس کا اکثر حصہ وقت اپنے آقا کی خدمت میں صرف ہوتا ہے اور اگر اس کے آقا کی خدمت کا وقت اور خدا تعالیٰ کی حاضری کا وقت دیکھا جائے۔تو معلوم ہو گا کہ وقت کا اعلیٰ حصہ اور مقدار کے لحاظ سے زیادہ حصہ آقا کی خدمت میں صرف ہوگا بہ نسبت خدا تعالیٰ کے وقت کے۔اور خدا کے لئے جو وقت صرف کیا جاتا ہے۔وہ عموما" تھکے ہوئے اوقات میں سے اور مقدار میں بہت کم ہوتا ہے۔پھر وہ اپنے وقت کا ایک حصہ کھانے پینے میں صرف کرتا ہے۔اور مجبور ہے کہ ایسا کرے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے اسے ایسا ہی بنایا ہے۔وہ شخص جو دن کے ۱۰ یا ۱۲ گھنٹے بیوی بچوں کے لئے روٹی کمانے میں خرچ کرتا ہے۔اس کے متعلق نہیں کہہ سکتے کہ اسلام کے خلاف کرتا ہے۔وہ عین اسلام کے مطابق کرتا ہے۔کیونکہ خدا نے انسان کو ایسا ہی بنایا ہے کہ وہ اپنے اوقات کا ایک حصہ اپنی اور اپنے لواحقین کی معاش پیدا کرنے میں صرف کرے۔مگر اس کے متعلق یہ بھی نہیں کہہ سکتے۔کہ خدا ہی کا کام کرتا ہے۔باوجود اس کے کہ وہ خدا کے حکم کے ماتحت کرتا ہے۔مگر وہ کام عبادت نہیں کہلا سکتی۔کیونکہ یہ کام تو ایک دہریہ اور خدا تعالیٰ گا کا منکر بھی کرتا ہے۔اور وہ بھی اس میں شامل ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ایاک نعبد میں جس عبادت کا ذکر ہے وہ اور قسم کی عبادت ہے۔اور عبادت صرف سجدہ اور رکوع نہیں ہے۔کیونکہ اگر محض سجدہ کر لینا یا رکوع کرنا ہی عبادت ہوتی تو یہ کون سی مشکل تھی۔بہت لوگ کہیں گے۔چلو خدا کے آگے سجدہ کر لو کسی اور کے آگے نہ جھکے خدا ہی کے آگے جھک گئے۔اس میں کیا حرج ہے۔اس میں تو کم محنت پڑتی ہے۔کیونکہ اور دس کے