خطبات محمود (جلد 10) — Page 78
بینگن کا۔78 ایسے لوگ جو ست بچئے ہوتے ہیں۔جس مجلس میں جاتے ہیں۔ویسے ہی ہو جاتے ہیں۔اگر وہ جماعت کے لوگوں سے ملتے ہیں تو وہی کام کرنا شروع کر دیتے ہیں جو جماعت کے افراد کر رہے ہوتے ہیں۔وعظ کہنا شروع کر دیتے ہیں۔تبلیغ کرنی شروع کر دیتے ہیں۔مضامین نویسی شروع کر دیتے ہیں لیکن جب دوسروں میں جاتے ہیں تو انہیں کے سے ہو جاتے ہیں۔اور کہتے ہیں بھائی کیا کبھی ہو سکتا ہے کہ ہم ان کے ساتھ دل سے مل جائیں۔ایسے لوگوں کی روش وہی ہوتی ہے جسے انگریزی میں (Herd Instinct) یعنی بھیڑ چال کہتے ہیں۔بھیڑوں میں یہ بات ہوتی ہے کہ اپنی عقل اور ارادہ سے کام نہیں لیتیں۔بلکہ جو ایک بھیڑ نے کیا۔وہی باقی سب کرتی ہیں۔کہتے ہیں ایک دفعہ بھیڑوں کے راستے میں رسی باندھ دی گئی۔جب بھیڑیں وہاں پہنچیں۔تو سب سے اگلی دو تین بھیڑیں اس پر سے کود کر گزریں ان کے بعد رسی کھینچ لی گئی لیکن پھر بھی جو بھیڑ اس جگہ پہنچتی کود کر گزرتی۔اس سے بھیڑ چال کی مثال مشہور ہو گئی۔یہی حال ان لوگوں کا ہوتا ہے۔جو اپنی عقل اور ارادہ سے کام نہیں لیتے۔ان کے کام بھیٹر چال سے بڑھ کر نہیں ہوتے۔ایسے لوگ جس مجلس میں جاتے ہیں اسی کے رنگ میں رنگین ہو جاتے ہیں۔اور جس رنگ کے لوگوں سے ملتے ہیں ویسے ہی بن جاتے ہیں۔ان کی نہ کوئی اپنی طاقت ہوتی ہے نہ عقل نہ ان میں ارادہ ہوتا ہے نہ استقلال۔ہر ایک مومن کو چاہئے۔اس عادت سے بچے اور ان خصائل ثلاثہ کو اپنے اندر پیدا کرے۔کیونکہ جب یہ تینوں خصلتیں اکٹھی ہوں۔تو انسان میں کمال پیدا ہوتا ہے۔مگر یہ بھی نہ ہو کہ انانیت اس حد تک بڑھ جائے کہ ایک طرف جباریت کا رنگ اختیار کرلے اور دوسری طرف سرکشی کا اور کسی کا کہنا ہی نہ مانے۔ایک حضرت دفعہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔احمدیوں کی کوئی خاص علامت ہونی چاہئے۔جس سے لوگ انہیں پہچان لیں مثلا" سبز پگڑی ہو۔اگر اس بات کو جاری کیا جائے۔اور پھر کوئی کہے کہ میں سبز پگڑی نہ باندھوں تو کیا ہرج ہے۔تو یہ انانیت ٹھیک نہیں ہوگی۔ایسا ہی داڑھی منڈانا ہے۔اب اگر کسی شخص کو ہم یہ کہیں کہ میاں داڑھی نہ منڈایا کرو۔داڑھی منڈانا اچھا نہیں۔اور وہ کے مجھے اس کے متعلق شریعت کا حکم دکھاؤ۔تو اسے کہا جائے۔فرض کر لو شریعت میں اس کے متعلق کوئی حکم نہیں لیکن جب تمھاری قوم کا یہ ایک امتیازی نشان ہے۔تو تمہیں داڑھی رکھنی چاہئے۔اس پر بھی اگر وہ نہ مانے۔تو اس میں صحیح اور کچی انانیت نہیں بلکہ سرکشی ہوگی یا انانیت کا غلط استعمال۔