خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 79

79 بغیر کیریکٹر کے کوئی قوم قوم نہیں بن سکتی۔جتنی قومیں دنیا میں ہیں۔ان کے کیریکٹر ہوتے ہیں۔ان کے کچھ امتیازی نشان ہوتے ہیں۔جن سے ان کا پتہ ملتا ہے اور وہ شناخت کی جاتی ہے اور افراد قوم کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ ان کیریکٹروں ، رنگوں اور نشانوں کی پابندی کریں۔کیونکہ افراد اگر چاہتے ہیں کہ قوم قائم رہے۔اور قومی روح اگر ان کے اندر ہے۔تو ان کو چاہئے کہ وہ قوم کے ساتھ ہر رنگ میں مشابہت پیدا کریں۔جب کہ ان امور میں جن کا قوم کے ساتھ اتنا تعلق نہیں ہو تا۔اور اپنی ذات میں بھی وہ بالکل چھوٹے اور معمولی ہوتے ہیں۔ایک شخص دوسرے سے مشابہت پیدا کرتا ہے۔جس سے تمدن قائم ہوتا ہے۔تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ان امور میں قوم کے ساتھ مشابہت پیدا نہ کرے۔جن کا قوم کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔دیکھو اگر ایک خاوند اپنی بیوی سے کیے۔میری چارپائی فلاں جگہ بچھانا۔اور بیوی دوسری جگہ بچھا دے تو خاوند یہ دیکھ کر لڑائی پر آمادہ نہیں ہو جائے گا۔بلکہ بیوی کے کام سے اتفاق کر لے گا۔ورنہ اگر ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھر میں لڑائی جھگڑا ہونے لگے تو گزاراہ کس طرح ہو سکے۔بے شک بہت سی چیزیں اپنی ذات میں مفید ہوتی ہیں۔مگر وہ بعض مقام پر غیر مفید ہو جاتی ہیں۔مثلا " لیٹنا ہے۔یہ اچھا تو ہے اور خدا تعالیٰ نے لیٹنے میں آرام رکھا ہے۔جب انسان تھک کر لیٹ جائے تو اسے آرام پہنچتا ہے۔اور تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔لیکن اگر مجلس میں آکر پاؤں پیار کر لیٹ جائے۔تو ہم کہیں گے یہ برا کام ہے کیونکہ یہ لیٹنے کا مقام نہیں۔اس میں کچھ شک نہیں کہ لیٹنا اچھا ہے اور اپنی ذات میں بہت مفید ہے۔لیکن اس موقعہ پر اچھا نہیں۔اسی طرح جہاں نماز کے لئے جماعت ہوتی ہو۔وہاں اگر کوئی شخص اپنی علیحدہ نماز پڑھے۔تو وہ نماز اس موقعہ پر اچھی نہ ہوگی۔پس ہر کام کرتے وقت یہ بھی دیکھنا چاہتے کہ وہ کام اپنی ذات میں کیسا ہے اور پھر اس کے موقعہ اور مقام پر غور کرنا چاہئے کہ اگر اپنی ذات میں اچھا ہے تو کیا موقعہ اور مقام کے لحاظ سے بھی اچھا ہے۔تمدنی طور پر چھوٹی چھوٹی باتوں کا کرنا جن کا کہ اخلاق اور روحانیت کے ساتھ تعلق ہے۔جب مفید ہوتا ہے تو کیوں نہ اس قسم کی بڑی بڑی باتوں میں قوم کے لئے قربانی کی جائے۔ہاں تمدن پر انانیت کو غالب نہ آنے دنیا چاہئے۔اور کوئی ایسی بات نہ کرنی چاہئے جو قومی رنگ میں نقصان دہ ہو۔پس ہر شخص کو چاہئے کہ ہر اس بات کو چھوڑ دے جو قوم کے لئے مفید نہ ہو۔خواہ وہ اپنی ذات اور