خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 76

76۔۔۔۔۔لئے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ تمدن کو مد نظر رکھے بلکہ احکام شریعت بھی یہاں سے اسی قسم کے شروع ہو جاتے ہیں۔جو تمدن کو اپنے اندر رکھتے ہیں۔نماز کی فلاسفی کا ایک پہلو قیام تمدن بھی ہے۔لوگ اگر جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔تو یہ ان کو شریعت کی طرف سے حکم دیا گیا ہے کہ باجماعت نماز پڑھو مگر مل کر کوئی کام کرنا تمدن کی ایک فرع بھی ہے اور جب نماز مل کر باجماعت پڑھی گئی تو تمدن کی اس فرع پر عمل کیا گیا۔پھر رکوع و سجود وغیرہ ہے۔یہ بھی سراسر امام کی متابعت ہے۔قطع نظر اس سے کہ مقتدی کی منشاء ہو یا نہ ہو کہ وہ اس وقت رکوع یا سجود میں جائے جس وقت کہ امام جاتا ہے۔اسے اس کی اقتداء کرنی پڑتی ہے اور بغیر پوری اقتداء کرنے کے یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھی اور یہ ظاہر ہے کہ کسی امام کی متابعت کرنا بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ کسی سردار قوم کی اطاعت کرنا اور سردار قوم کی اطاعت کرنا یہ بھی تمدن ہی ہے۔کیونکہ جب تک قوم کسی سردار کی اطاعت نہ کرے۔تمدن قائم نہیں کر سکتی۔غرض مل کر کام کرنا اور کسی امام کی متابعت کرنا تمدن ہے۔چونکه تمدن کا قائم رکھنا ہر قوم کے لئے ضروری ہے۔اس لئے مسلمانوں کے لئے جو شرعی حکم اس وقت کے لئے رکھے گئے ہیں۔وہ تمدن کو بھی مد نظر رکھ کر رکھے گئے ہیں۔مگر باوجود اس کے بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ جب جماعت کے ساتھ نماز ادا کر رہے ہوں۔تو پوری اقتداء نہیں کرتے یہاں تک کہ امام اگر سجدہ سے سر اٹھاتا ہے تو وہ سجدے میں پڑے ہوتے ہیں اور جب امام دو سرے سجدہ میں جانے کے لئے تکبیر کہتا ہے۔تو وہ پہلے سجدہ سے سر اٹھاتے ہیں ایسے سجدے سجدے نہیں ہوتے کیونکہ امام کی اقتداء میں نہیں ہوتے بلکہ اپنی مرضی کے مطابق ہوتے ہیں۔وہ سمجھتے ہوں گے امام تو ایک منٹ سجدہ کر کے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ہم دو منٹ سجدہ کریں گے تو زیادہ ثواب ملے گا۔مگر یہ بات غلط ہے ایسے موقعہ پر امام کی اقتداء میں ہی ثواب اور نیکی ہے اور سجدہ وہی ہے جو امام کے ماتحت ہو۔آنحضرت نے فرمایا جو لوگ امام کے پیچھے رہتے ہیں۔یا امام سے آگے چلے جاتے ہیں۔ان کا سر گدھے کے سر کی طرح بنا دیا جائے گا۔پس اس سے بچنا چاہئے۔نادان اسے نیکی سمجھتے ہیں۔لیکن یہ نیکی نہیں ہے۔نیکی اسی میں ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتے وقت امام کی پوری پوری اقتداء کی جائے۔تیسری صفت مالک یوم الدین کی ہے۔اور یہ صفت تمدنی طور پر قوم کے ساتھ اپنے آپ کو ملا دیتا ہے۔بعض لوگ قوم کے ساتھ اپنے آپ کو ملاتے تو ہیں۔لیکن ان سے غلطی یہ ہو جاتی ہے کہ