خطبات محمود (جلد 10) — Page 75
75 خیال نہ رکھا جائے۔اور ان کو دبا کر آگے بڑھا جائے۔تو یہ انانیت نہیں۔یہ جباریت ہے اور یہ منع ہے۔اس سے بچنا چاہئے۔پس آگے بڑھتے ہوئے یہ دیکھتے رہنا چاہئے کہ انانیت بدل کر کہیں جہاریت تو نہیں بن گئی۔دوسری صفت رحیمیت ہے۔اس کے ماتحت انسان میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے۔کہ میں اچھے کام کروں اور برے کاموں سے بچوں۔اس صفت کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے امتیاز بین الحق و الباطل پیدا ہو اور امتیاز بین الحق والباطل کی پیدائش کے لئے کسی شرط کی ضرورت نہیں۔یہ امتیاز بغیر کسی شرط کے ہوتا ہے اس کے ماتحت انسان میں یہ مادہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ہر اس چیز کو اختیار کرے جو حق ہے۔خدا کا قرب حاصل کرنے والی ہے۔ترقی دیتی ہے اور ہر اس چیز کو چھوڑ دے جو باطل ہے۔خد اتعالیٰ سے دور کر دینے والی ہے اور بجائے ترقی کے تنزل کی طرف لے جانے والی اور مضر ہے۔رحیمیت کی شرط تو کوئی نہیں مگر اس کی کچھ حد بندی ضرور ہے اور وہ اگلے حصے کے ماتحت ہے۔جو مالک یوم الدین کا ہے۔اس میں جب ایک شخص پہنچتا ہے۔تو اس کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ قربانی کرے۔یعنی جب مل کر کسی کام کے کرنے کا حکم دیا جائے تو پھر اپنے نفع و نقصان کو چھوڑ کر کرے۔اسے اکیلے طور پر وہی کام کرنے میں خواہ کس قدر سہولت اور آرام ہو اور مل کر کرنے میں خواہ کس قدر ہی نقصان اور تکلیف ہو مگر جب وہ مالک یوم الد ین کے ماتحت آ جائے۔اور اسے مل کر کرنے کے لئے کہا جائے۔تو اس کے لئے ضروری ہے کہ مل کر کرے۔مثال کے طور پر نماز ہی کے معاملے کو لے لو۔نماز مل کر پڑھنے کا حکم ہے یعنی یہ کہ اکٹھے ہو کر باجماعت پڑھو۔اب اگر امام کو آنے میں دیر ہو جائے اور کوئی شخص اکیلا نماز پڑھ لے تو یہ اس کے لئے ہرگز جائز نہیں ہے۔شریعت نے ہر نماز کے لئے وقت کا جو اندازہ مقرر کیا ہے کہ فلاں وقت سے لے کر فلاں وقت تک نماز ہو سکتی ہے۔اس کا یہی مطلب ہے کہ اگر تھوڑی دیر آگا پیچھا ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔اگر یہ مد نظر نہ ہوتا تو شریعت میں خاص وقت مقرر کر دیا جاتا کہ عین فلاں وقت پر فلاں نماز ادا کرو۔مگر ایسا نہیں کیا گیا۔جس طرح رحمانیت کے آخر میں رحیمیت کی ابتدا نے شروع ہو کر ایک ہلکا سا فرق رحمانیت کی تعریفوں میں پیدا کر دیا۔اسی طرح رحیمیت کے آخر میں مالک یوم الدین نے شامل ہو کر رحیمیت کی تعریفوں میں تبدیلی پیدا کر دی۔چونکہ اس کے ساتھ ساتھ تمدن کا سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے۔اس لئے تمدن کے لحاظ سے تعریفوں میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔اور نہ صرف انسان ہی کے