خطبات محمود (جلد 10) — Page 64
64 ایمان لانے پر کھڑا کر دیا۔اور ان کے کفر کو ایسا دھویا کہ ان کے دو بیٹے اسلام کے بہت بڑے خادم ہوئے۔ایک بیٹا تو حضرت عمر کے زمانہ میں گورنر ہوا اور محض گورنر ہی نہ تھا بلکہ مسلمانوں میں ولی اور بزرگ مانا جاتا تھا۔دوسرے بیٹے حضرت معاویہ تھے۔جو حضرت علی کے بعد مسند خلافت پر بیٹھے۔یہ اور بات ہے کہ لوگ ان کی خلافت پر اعتراض کریں مگر بہر حال صحابہ نے بعض وجوہات کے باعث ان کی خلافت کو تسلیم کیا اور ان کے متعلق یہی حسن ظنی تھی کہ وہ اسلام کے خادم ہیں۔اس طرح وہ لوگ جو اسلام کے خلاف تلوار چلاتے رہے تھے۔ان پر ایسا زمانہ آیا کہ انہیں کے ہاتھوں میں اللہ تعالٰی نے اسلام کی حکومت کی باگ دے دی۔اس کے مقابلہ میں انصار کی حالت دیکھتے ہیں۔مکہ سے ہر قبیلہ رسول اللہ کو نکالتا ہے۔مکہ کے ارد گرد کی ہمسایہ قومیں ہیں ان کی طرف آپ رخ کرتے ہیں تو وہ آپ کے پتھراؤ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔طائف سے لہولہان ہو کر آپ واپس آتے ہیں۔حج کے موقعہ پر ایک ایک خیمہ میں جاتے ہیں۔ان کو تبلیغ کرتے ہیں۔تو وہ آپ پر پہنتے ہیں کہتے ہیں پاگل ہو گیا لیکن ادھر مدینہ سے حج پر چند آنے والے لوگ سنتے ہیں کہ ایک شخص خدا کی طرف سے آنے کا دعویٰ کرتا ہے۔تو کہتے ہیں ہمیں اس کی بات سننی چاہئے۔وہ آپ کے پاس حاضر ہوتے ہیں۔اور آپ کی باتیں سنتے ہی معا آپ پر نہ صرف ایمان لاتے ہیں بلکہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے ملک کو اسلام لانے کے لئے تیار کریں گے۔اگلے سال پھر وہ وعدہ پورا کرتے ہیں کہ اپنے ساتھ اپنے علاقہ کے روسا لے کر آتے ہیں اور یہاں تک وہ لوگ آپ کو کہتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ مدینہ چلیں اور ہمارے پاس رہیں۔ہم آپ کی حفاظت اور مدد کریں گے۔اس وعدہ کے ساتھ آپ کو اپنے شہر میں لے جاتے ہیں۔پھر کس شان اور کس وفاداری سے وعدہ پورا کرتے ہیں۔کوئی دردمند دل ان کے واقعات پڑھ کر بغیر اس کے کہ اس کی آنکھیں پر نم ہو جائیں نہیں رہ سکتا۔ایک موقعہ پر جبکہ آپ کو مدینہ سے باہر ایک جنگ پر تشریف لے جانا پڑا تو آپ نے مسلمانوں کو اکٹھا کر کے مشورہ لینا چاہا۔در حقیقت آپ کا منشاء انصار سے مشورہ لینے کا تھا۔کیونکہ انصار سے پہلے یہ معاہدہ تھا کہ اگر مدینہ پر دشمن حملہ آور ہوگا تو وہ لوگ آپ کی حفاظت اور مدد کریں گے اور مدینہ سے باہر کے لئے یہ معاہدہ نہ تھا۔اس معاہدہ کے مطابق رسول کریم دراصل انصار سے مشورہ لینا چاہتے تھے کہ ہمیں اب کیا کرنا چاہئے۔مہاجرین بار بار اٹھ کر آپ کو مشورہ دیتے ہے