خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 65

65 لیکن آپ نے فرمایا۔میں تم سے مشورہ نہیں لینا چاہتا۔آخر انصار سمجھ گئے کہ ہمیں بلایا جاتا ہے۔اور ہم سے رسول الله اللا مشورہ پوچھتے ہیں اس پر ان میں سے ایک نے اٹھ کر کہا۔کیا آپ کی مراد ہم سے ہے؟ یا رسول اللہ اللہ وہ معاہدہ تو اس صورت میں تھا۔جبکہ ابھی ہم آپ کی رسالت کی حقیقت سے ناواقف تھے۔لیکن اب جب آپ کو خدا کا رسول یقین کر چکے ہیں۔اور رسالت کی حقیقت سے واقف ہو گئے ہیں۔تو اب ہمارا وہ وعدہ کیا حقیقت رکھتا ہے۔اب تو یا رسول اللہ اگر آپ فرمائیں گے۔تو ہم سمندر میں کود پڑیں گے۔اگر آپ ہمیں دنیا کے دوسرے کنارہ پر لے جانا چاہیں۔تو ہم وہاں جائیں گے۔دنیا کی کسی جگہ میں بھی آپ پر اگر کوئی حملہ آور ہو گا تو ہم آپ کے دائیں بھی اور بائیں بھی لڑیں گے۔اور دشمن آپ تک نہیں پہنچے گا۔جب تک ہماری لاشوں پر سے نہ گذرے۔ا اس فقرہ پر ایک صحابی کہتے ہیں کہ میں بارہ غزوات میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ شامل رہا۔لیکن میں یہ چاہتا تھا کہ بارہ غزوات میں شامل نہ ہوتا۔مگر اس دن یہ فقرہ میرے منہ سے نکلتا۔۲ الا شخص اور سنئے عبداللہ بن ابی ابن سلول نے جو منافق تھا۔ایک موقعہ پر کہا کہ میں جو معزز ہوں۔محمد رسول اللہ اس کو جو ذلیل انسان ہے۔مدینہ سے باہر نکال دوں گا۔یہ بات اس کے بیٹے کو بھی کسی طرح سے پہنچ گئی۔وہ رسول کریم ان کی خدمت میں حاضر ہوتا اور کہتا ہے۔اس کی سزا اب قتل کے سوا اور کوئی ہو نہیں سکتی۔اس لئے آپ مجھے حکم دیں کہ میں اپنے ہاتھ سے اس کو قتل کروں تا ایسا نہ ہو کہ اور کوئی شخص اس کو قتل کرے۔اور میرا نفس شرارت کرے۔۳۔یہ وہ قربانیاں تھیں جو انہوں نے کیں۔انہوں نے اپنے گھر بانٹ دیئے۔حتی کہ اپنی بیویاں دوسروں کے لئے علیحدہ کر دیں۔جن کے پاس ایک سے زائد تھیں۔یہ وہ ایثار اور قربانی ہے کہ دنیا میں اس کی نظیر بہت کم ملتی ہے۔پھر غزوہ حنین کے موقعہ پر جبکہ بارہ ہزار کا لشکر جرار آپ کے ساتھ تھا۔بعض کے عجب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ سزا نازل کی کہ لشکر کے پاؤں جنگ میں اکھڑ گئے۔آپ پر ایسا وقت آیا کہ چار ہزار لشکر کے مقابل آپ کے ساتھ صرف بارہ آدمی رہ گئے تھے۔اس وقت آپ نے فرمایا۔انصار کو بلاؤ۔آپ نے یہ نہیں فرمایا۔کہ مہاجرین کو بلاؤ۔پھر آواز ایسی خطرناک حالت میں جب انصار کو پہنچتی ہے تو وہ آپ کی طرف اس طرح بے اختیار ہو کر دوڑے چلے آتے ہیں کہ اگر ان کے