خطبات محمود (جلد 10) — Page 250
250 میں ماہر ہے۔اس نے اپنے تجربوں کی بناء پر اس میں مضمون لکھتے ہیں۔اس کتاب کا ایک فقرہ مجھے بہت پیارا معلوم ہوا۔اس میں لکھا ہے کہ احمد یہ جماعت کو جو بھی کہیں کہیں لیکن یہ بات ضرور ہے کہ یہ قوم اپنی طاقت کے ہاتھ سے دنیا پر چھا گئی اور آنا فانا دنیا میں پھیل گئی۔طاقت تو جو ہماری ہے وہ ہم جانتے ہی ہیں۔ہمارا تو یہ حال ہے کہ ہمارے دوست ان علاقوں کو بھی نہیں جانتے جن میں احمدیت پھیل چکی ہے۔یہ سب لوگ جو اس مسجد میں اس وقت بیٹھے ہیں۔ان سے پوچھا جائے کہ ان ممالک کے نام بتاؤ۔جہاں احمدیت پھیلی ہوئی ہے تو ہر گز نہ بتا سکیں گے۔تو جو ان ملکوں کے ناموں سے بھی واقف نہیں کہ جن میں احمدیت پھیلی ہوئی ہے۔تو ان کی طاقت ہی کیا ہوئی اور انہوں نے ملکوں میں تبلیغ ہی کیا کرنی ہے۔ان میں سے ضرور ۹۰ بلکہ ۹۵ فی صدی ایسے نکلیں گے۔جو ان ملکوں سے ناواقف ہوں گے۔اور اگر ان ملکوں کے نام ان لوگوں کے سامنے لئے جائیں کہ جن میں احمدیت پھیلی ہوئی ہے۔تو وہ حیران ہو جائیں گے وہ اتنا بھی نہیں جانتے کہ یہ کسی ملک کا نام ہے یا کسی گھوڑے بیل کا۔پس ہماری تو یہ حالت ہے تاریخی اور جغرافیائی طور پر بھی ہمیں وہ علم حاصل نہیں۔جس کی بناء پر یہ کہا جا سکے کہ ہماری طاقت نے کام کیا۔پس یہ کہنا کہ یہ سب کام ہماری طاقت کے ساتھ ہوا غلط ہے۔یہ اسی کی طاقت ہے کہ جس نے آج سے پچاس سال پہلے کہا تھا۔یا تیک من کل فج عميق و يا تون من كل فج عمیق۔پس اس کا پھیلانے والا خدا تھا نہ کہ ہماری طاقت۔یہ جو کچھ بیان کیا گیا ہے یہ اس الہام کی وہ چھوٹی سی شکل ہے۔جس میں وہ ظاہر ہو رہا ہے۔لیکن اس سے بڑھ کر اور نہایت ہی موثر پیرایہ میں اس کو پورا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ سالانہ کی بنیاد رکھی۔اور اس موقعہ پر یا تیک من كل فج عمیق اپنا پورا پورا اثر دکھاتا ہے۔پس اس جلسے کے دن آنے والے ہیں۔اور اس صورت میں جبکہ اس کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس الہام کے لئے رکھی۔ہر وہ شخص جو اس میں شامل ہوتا ہے۔وہ حضرت صاحب کے کام میں مدد دیتا ہے اور وہ خدا کے کلام میں مدد دینے والا ہے۔خدا کا کلام تو پورا ہوتا ہے اور اس کے کام ہوتے رہتے ہیں۔مگر وہ اپنے کلام کو بندوں سے پورا کراتا ہے۔پورا کرنے والا تو در حقیقت خدا ہے لیکن وہ ہم کو کہتا ہے کہ اس میں شامل ہو جاؤ۔اور یہ «مفت کرم داشتن» والا معالمہ ہے کہ کام تو وہ خود کرتا ہے مگر ہندوں کو اس میں شامل کر لیتا ہے۔پس جماعت کو بھی اس