خطبات محمود (جلد 10) — Page 246
246 دوسرا دروازہ بھی کھولا گیا ہے۔اللہ تعالٰی نے اس زمانہ کے نبی کے لئے نشان بھی دکھائے اور کثرت سے دکھائے اور ہر رنگ میں کھلے کھلے طور پر دکھائے ہیں کہ اگر دلوں پر زنگ نہ ہو تو سورج سے زیادہ چمک کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر ہو جائے۔یہ ہو سکتا ہے کہ سورج کے وجود میں شہہ پڑ جائے لیکن خدا کے اس نبی کی شان میں جو نشان دکھائے گئے ہیں۔وہ بہت ہیں اور اس کثرت سے ہیں اور اس طرح کھلے کھلے ہیں کہ ان میں شبہ پڑ نہیں سکتا اور جو روشنی ان سے پیدا کی وہ کبھی انسان کے اندر ظاہر ہوتی ہے کبھی جانوروں کے اندر سے ظاہر ہوتی ہے۔کبھی بے جان سے ظاہر ہوتی ہے۔کبھی آسمان سے ظاہر ہوتی ہے۔کبھی زمین سے ظاہر ہوتی ہے۔کبھی پہاڑوں سے ظاہر ہوتی ہے۔اور کبھی زلزلوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ایسے نشان ہزاروں ہیں اور ایسی شہادتیں بے اندازہ کہ جن سے یہ قسم ایمان کی پیدا ہوتی ہے۔ان میں سے اس وقت میں ایک کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اور وہ یا تیک من کل فج عمیق اور يا تون من كل فج عميق ۳۰ یعنی دور دور سے لوگ تیرے پاس آئیں گے اور دور دور سے تیرے پاس تحائف لائے جائیں گے اور ایسے ایسے سامان کئے جائیں گے جن سے مہمان نوازی کی جائے اور اس کثرت سے لوگ آئیں گے کہ وہ راستے گھس جائیں گے جن راستوں سے وہ آئیں گے۔یہ نشان ایک عظیم الشان نشان ہے اس عظیم الشان نشان کی کس وقت خدا تعالیٰ نے خبر دی۔اس حالت کے دیکھنے والے اب بھی موجود ہیں۔میری عمر تو چھوٹی تھی لیکن وہ نظارہ اب بھی یاد ہے۔جہاں اب مدرسہ ہے وہاں ڈہاب ہوتی تھی اور میلے کے ڈھیر لگے ہوتے تھے اور مدرسہ کی جگہ لوگ دن کو نہیں جایا کرتے تھے کہ یہ آسیب زدہ جگہ ہے۔اول تو کوئی وہاں جاتا نہیں تھا اور جو جاتا بھی تو اکیلا کوئی نہ جاتا بلکہ دو تین مل کر جاتے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ یہاں جانے سے جن چڑھ جاتا ہے۔جن چڑھتا تھا یا نہیں بہر حال یہ ویران جگہ تھی۔اور یہ ظاہر ہے کہ ویران جگہوں کے متعلق ہی لوگوں کا خیال ایسا ہوتا ہے کہ وہاں جانے سے جن چڑھ جاتا ہے۔پھر یہ میرے تجربے سے تو باہر تھا۔لیکن بہت سے آدمی بیان کرتے ہیں کہ قادیان کی یہ حالت تھی کہ دو تین روپے کا آٹا بھی یہاں سے نہیں ملتا تھا۔آخر یہ گاؤں تھا۔زمیندارہ طرز کی یہاں رہائش تھی۔اپنی اپنی ضرورت کے لئے لوگ خود ہی پیس لیا کرتے تھے۔یہ تو ہمیں بھی یاد ہے کہ ہمیں جب کبھی کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کسی آدمی کو لاہور یا امرتسر بھیجا کرتے تھے۔پھر آدمیوں کا یہ حال تھا کہ کوئی ادھر آتا نہ تھا۔برات وغیرہ پر کوئی مہمان اس گاؤں میں آجائے تو آ جائے لیکن عام طور پر کوئی آتا