خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 245

245 امید پر جا کر ختم ہوں گی۔وہ شروع اس طرح ہوں گی۔اے لوگو ! تم نے یہ کیا وہ کیا اس لئے یہ ہوگا لیکن ختم اس پر ہوں گی کہ خدا تم کو نہیں چھوڑے گا۔تمھاری ضرور مدد کرے گا۔تو ان کی ابتدا غم و اندوہ سے ہوگی اور انتہا امید پر ہو گی۔اول درجے کا ایمان اپنے نفس کی شہادت سے پیدا ہوتا ہے اور دوسرے درجے کا ایمان دوسرے لوگوں کی شہادت سے پیدا ہوتا ہے اور وہ اس طرح کہ جب وہ صادقوں کے معجزات۔ان کی نصرت۔خدا کی ان سے ہمکلامی کو دیکھتے ہیں تو ان کا ایمان تازہ ہو جاتا ہے اور وہ اس ایمان سے بڑھ کر جو عقل سے پیدا ہوتا ہے ان باتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔اسی لئے یہ اس سے بھی بلند ہے پس یہ ایمان بھی بڑا زبردست ہوتا ہے۔ایسا ایمان بھی اگر پیدا ہو جائے تو دنیا کی سب چیزیں بیچ ہو جاتی ہیں اور صرف خدا تعالیٰ کا خیال رہ جاتا ہے۔عقل کے ذریعے جو ایمان حاصل ہوتا ہے وہ کوئی ایسا عمدہ اور مضبوط ایمان نہیں ہو تا۔تمام دنیا کے عقلی ایمانوں کو اگر جمع کر لیا جائے تو وہ انسان کے اس ایمان کے مقابلہ میں بالکل بیچ ہوں گے۔جو شہادت نفس سے یا کم از کم شہادت غیر سے حاصل کیا جاتا ہے بلکہ میرے نزدیک تو وہ ایمان کہلانے کا ہی مستحق نہیں۔عقل سے ایمان لانے والوں کے ایمانوں کو اگر جمع کیا جائے تو گو وہ ایمان کسی حد تک مشاہدہ بھی رکھتے ہوں اور موہبت والے بھی ہوں لیکن وہ پھر بھی سمندر کے مقابل پہ قطرہ ہی ہوں گے۔کیونکہ ان کی تمام قوت ان کے مقابل پہ کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی۔یہی وجہ ہے کہ خدا انبیاء کو بار بار بھیجتا ہے۔اور انبیاء کو بار بار بھیجنے سے وہ دکھانا چاہتا ہے۔کہ میں مردہ خدا نہیں ہوں۔میں بے کار اور غافل خدا نہیں ہوں۔میں اپنی قدرتیں اور طاقتیں ہمیشہ دکھاتا ہوں اور ہمیشہ دکھا سکتا ہوں اور طاقتوں کے ذریعہ خدا تعالیٰ ایسے ایمان پیدا کراتا ہے اور بندوں کے لئے دونوں قسم کی راہیں کھول دیتا ہے۔ہمارے اس زمانہ میں بھی یہ دونوں راہیں ایمان پانے کی خدا تعالیٰ نے کھولی ہیں۔یہ دونوں راہیں یہی ہیں کہ اپنے نفس کی شہادت سے ایمان حاصل کرنا اور شہادت غیر سے ایمان پیدا کرنا۔اور یہ دونوں راہیں جو اس نے کھولی ہیں۔ان کے دروازوں کو کھولنے کے لئے وقت کے نبی کی جماعت میں داخل ہونا ضروری ہے۔اس نبی کی بیعت کا سرٹیفکیٹ ان کے ہاتھ میں ہونا چاہئے۔عام الہام کی شرط نہیں۔اس کے لئے ایسے الہاموں کی ضرورت ہے جو دوسروں کو بھی حیران کر دیں اور ایسے الہام اور وحی صرف انبیاء کی بیعت کا سرٹیفکیٹ رکھنے والوں کو ملتے ہیں۔