خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 226

226 حکم نہیں مانتا۔وہ اپنا انجام سوچ لے۔پس مجھے اس اطاعت میں ہی خوشی ہو سکتی ہے جو قانون یعنی خدا کے حکم کے ماتحت ہو۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ان کی اطاعت بھی کی جائے۔اور ان کا کہا بھی مانا جائے۔جن کو کسی کام کے لئے مقرر کیا جاتا ہے۔میں اپنے بعد یہاں کی جماعت کا امیر مولوی شیر علی صاحب کو مقرر کرتا ہوں احباب کو چاہئے کہ ان کی اطاعت کریں۔یہ ایک مسئلہ ہے جس کی یہاں کی جماعت کو بھی ضرورت ہے اور باہر کی جماعتوں کو بھی۔کیونکہ باہر سے بھی آواز آتی ہے کہ ہم میں سیاست نہیں اس لئے کس کی مانیں۔ہم کہتے ہیں سیاست تو ہے حکومت نہیں۔اور میرے نزدیک اگر کوئی شخص یہ نہیں مانتا تو وہ گویا بیعت ہی نہیں کرتا۔نبوت اور کفر و اسلام کے مسئلے میں اختلاف کرتے ہوئے ایک شخص بیعت کر سکتا ہے۔لیکن خلافت کے اس مسئلے میں اختلاف کر کے بیعت نہیں کر سکتا۔دیکھو یہ سمجھتے ہوئے کہ فلاں شخص نے غیبت کی یا جھوٹ بولا ہے۔اس کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے۔لیکن یہ سمجھ کر کہ بے وضو کھڑا ہے ہرگز اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتاک جسے خبر نہیں کہ امام بے وضو کھڑا ہے اس کی تو ہو جائے گی۔مگر جسے خبر ہے اس کی نماز نہیں ہوگی۔کیونکہ امامت کا جو مفہوم تھا وہ نہ رہا۔اسی طرح یہ نکاح تو ہو سکتا ہے کہ عورت عیسائی ہو اور مرد مسلمان لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک بھائی اور بہن میں نکاح ہو جائے۔پس خلیفہ کے احکام کی اطاعت ایک ایسا ضروری امر ہے کہ جو اس کا اقرار نہیں کرتا بلکہ اس سے اختلاف رکھتا ہے وہ بیعت میں بھی شامل نہیں ہو سکتا۔دوستوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ سوائے ان امور کے جن میں نص شرعی موجود ہو یا جن کو گورنمنٹ نے اپنے لئے مخصوص کر لیا ہو۔باقی سب میں خلیفہ کی سیاست ہے۔خواہ وہ روحانی ہوں یا اخلاقی ہوں یا جسمانی ہوں یا تمدنی ہوں۔ان میں خلیفہ کی اطاعت کرنی چاہئے۔ہمارے ذمے بڑی بڑی باتیں ہیں لیکن ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑتے رہتے ہیں۔اور بڑی بڑی ذمہ داریاں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے ذمہ ہیں ہم سے رہ جاتی ہیں۔آخر ایمان کیا ہے؟ اس پر غور کرنا چاہئے۔مجھے تو یہ بیان کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں میں لڑ کر بڑی ذمہ داریوں کے ادا کرنے سے رہ جاتے ہیں۔کوئی کہتا ہے ہم فلاں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے کیونکہ ہم سے اس کی لڑائی ہوئی ہے۔نماز تو فاسق و فاجر کے پیچھے بھی جائز ہے۔مگر دیکھا یہ جاتا ہے کہ ذرا کسی بات پر جھگڑا ہوا تو کہہ دیا کہ میرا فلاں کے ساتھ جھگڑا ہے۔میں