خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 130

130 کے درجہ سے تعلق نہیں رکھتیں۔وہ ایسے موقعہ پر مانگے گا تو اسے مل جائے گی۔ورنہ اگر اس کا یہ مطلب ہو کہ خواہ کوئی کچھ کرے جو دعا بھی اس وقت مانگے۔وہی قبول ہو جائے گی۔تو ہو سکتا ہے کہ ایک شخص رمضان کے پہلے ہیں روزے نہ رکھے۔نہ نمازیں پڑھے۔نہ کوئی اور نیک کام کرے۔لیکن جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو تو مغرب کی نماز کے بعد سے لے کر صبح کی نماز تک دعا مانگتا رہے۔اور دن کو سو جائے نہ ظہر کی نماز پڑھے نہ عصر کی۔پھر رات کو یہ دعا مانگنا شروع کر دے کہ میں جو چاہوں کرتا رہوں مجھ سے کوئی باز پرس نہ ہو اور میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام پر جنت میں رکھا جاؤں یہ ہرگز مفہوم نہیں ہو سکتا ان حدیثوں کا جو لیلتہ القدر کے متعلق آئی ہیں۔دعا وہی سنی جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت قبول ہوئی ممکن ہو مگر عارضی روکوں کی وجہ سے قبول نہ ہو سکتی ہو اور یہ درست ہے کہ انبیاء کی ایسی دعائیں کبھی رد نہیں ہوتیں۔ان کی وہی دعائیں نا منظور ہوتی ہیں جو خدا تعالیٰ کے قانون یا خاص تقدیر کے مقابلہ میں آپڑتی ہیں اور انبیاء کو اس کا پتہ نہیں ہوتا۔ورنہ جو ایسی نہیں ہوتیں وہ قبول کی جاتی ہیں۔اور کبھی رد نہیں کی جاتیں۔یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات انبیاء کے منہ سے نکلے ہوئے فقرے اس صفائی کے ساتھ پورے ہو جاتے ہیں کہ لوگ خیال کر لیتے ہیں انہیں بھی قانون قدرت پر تصرف حاصل ہے۔لیکن وہ اہم امور جو خاص قدرتوں کے ماتحت ہوتے ہیں اور جن کے متعلق خدا تعالیٰ کا قانون اور رنگ میں جاری ہوتا ہے۔ان کے متعلق نہ صرف یہ کہ انبیاء کے منہ سے نکلی ہوئی دعائیں قبول نہیں ہوتیں بلکہ مہینوں اور سالوں اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں۔تو بھی منظور نہیں ہوتیں۔بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ انبیاء اور اپنے مقربین کی دعائیں ان کی محبت اور پیار کی وجہ سے سنتا ہے۔مگر محبت اور پیار کی وجہ سے خدائی چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔یہی وجہ ہے کہ وہ دعائیں جو اس کے قانون قدرت یا خاص تقدیر کے خلاف ہوں انہیں قبول نہیں کرتا۔پس رمضان المبارک کا آخری عشرہ بھی بعض حد بندیوں کے ماتحت آئے گا۔اور جب یہ بات تسلیم کی جائے گی۔تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس عشرہ میں آنے والی خاص گھڑی سے وہی فائدہ اٹھائے گا جس کے دوسرے اعمال بھی اچھے ہوں گے۔اور جو دوسرے ایام میں بھی اپنے اندر صلاحیت رکھتا ہو گا۔یعنی وہی اس سے فائدہ اٹھائے گا جو اپنے اعمال کی رو سے اس کا مستحق ہو گا۔پھر یہ حد بندی لگانے پر یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ لیلتہ القدر ہر انسان کے لئے نہیں ہے۔بلکہ اس کے لئے ہے جو خود اسے اپنے لئے پیدا کرتا۔۔یہ نہیں کہ اس عشرہ میں وہ خاص گھڑی اس لئے رکھ