خطبات محمود (جلد 10) — Page 99
99 میں اب بھی انہیں کہتا ہوں۔اپنے رویہ کو بدلو۔شرافت سے کام لو۔اور مذہبی مسائل پر جتنا چاہو لکھو ایسی باتوں میں نہ پڑھو جن کا نتیجہ سوائے رنجش اور بدمزگی کے اور کچھ نہیں نکل سکتک میں پوچھتا ہوں۔بھلا شادی کرنا مذہبی طور پر کون سا ایسا مسئلہ ہے۔جن پر وہ متواتر ہمیں اعتراضات کا نشانہ بنا رہے ہیں۔میں کہتا ہوں اگر ہم بلاوجہ بھی شادی کریں۔بشرطیکہ ہم عدل و انصاف تمدنی و سیاسی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے شادی کریں۔تو بھی ہم پر شرعا" کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔اگر ملکی تمدنی شرعی حالات اجازت دیتے ہوں اور کوئی وجہ نہ ہو تب بھی شادی جائز ہے اور اگر کوئی شخص صرف اسی نیت سے زیادہ شادیاں کرے کہ اولاد زیادہ ہو تو بھی جائز ہے۔ہاں اگر تمدنی و قومی یا شرعی حالات کسی کو زیادہ شادیوں کی اجازت نہ دیتے ہوں تو پھر اس شخص کے لئے جائز نہیں۔خواہ اسے ضرورت بھی ہو۔میں نے یہ شادی خوابوں کی بناء پر کی۔اگر وہ کہیں کہ خواب دوسروں کے لئے کیسے حجت ہو سکتی ہے تو میں کہتا ہوں کہ رڈیا کا اعتبار یا عدم اعتبار تو میں ہی سمجھ سکتا ہوں۔کیونکہ رڈیا کا تعلق میری ذات سے ہے۔میں سمجھ سکتا ہوں کہ میری رڈیا کیا عظمت رکھتی ہے۔اور وہ قابل عمل ہے یا نہیں اور کس طرح اس پر عمل کرنا چاہئے۔دشمن کا کسی بات کو ماننا یا نہ مانا اس امر کی سچائی کی دلیل نہیں ہوا کرتی۔سچائی اپنی ذات میں سچائی ہوتی ہے۔میری تو یہ حالت ہے کہ میں اپنے ذاتی معاملات میں بھی دوستوں سے مشورہ لے لیا کرتا ہوں۔حالانکہ قومی اور مذہبی طور پر مجھ پر اپنے ذاتی معاملات میں دوسروں سے مشورہ لینا فرض نہیں اور اسی وجہ سے بعض دوستوں نے مجھے کہا بھی ہے کہ آپ خواہ مخواہ کیوں دوسروں کو اپنے معاملات میں دخل دینے کا موقعہ دیتے ہیں۔کسی کا حق نہیں کہ آپ کے ذاتی معاملات میں دخل دے۔لیکن میرا اپنا یہی دستور ہے کہ میں اکثر مشورہ لیتا ہوں۔کیونکہ مشورہ سے آخر کوئی نہ کوئی ایسی مفید بات نکل آتی ہے جو پہلے معلوم نہیں ہوتی۔پیچھے جب میں نے ولایت جانے کے لئے جماعت سے مشورہ لیا تو میں نے دیکھا کہ بالکل ان پڑھ لوگوں کے منہ سے ایسی ایسی باتیں نکلتی تھیں۔جن کے سننے سے لطف آجاتا تھا۔اور بعض باتیں بڑے بڑے آدمیوں کے ذہن میں نہیں آئی تھیں جو دوسرے آدمیوں کے منہ سے نکلیں۔پس میں ان لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی قلموں کو روکیں اور اپنے رویہ کو بدل لیں۔