خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 98

98 گفتگو کرد حضرت مسیح موعود کی نبوت کے متعلق ہم سے پوچھو۔نظام سلسلہ کے متعلق ہم سے سوال کرو۔حضرت مسیح موعود کے درجہ کے متعلق۔آپ کی تعلیم کے متعلق۔یہ باتیں ہیں جن کے متعلق ہم سے گفتگو کی جا سکتی ہے۔شادیوں سے ان مسائل کو کیا تعلق؟ بلاوجہ مجھ پر اعتراض کرنے سے وہ لوگ جن کو مجھ سے محبت ہے۔وہ تم سے کیسے صلح کر سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے آریوں کے حضرت نبی کریم ﷺ کی ذات پر بے ہودہ اعتراضات کے جواب میں پیغام صلح میں لکھا ہے کہ ہماری جنگل کے درندوں اور شور زمین کے سانپوں سے صلح ہو سکتی ہے۔لیکن اس قوم سے صلح نہیں ہو سکتی جو آنحضرت ﷺ کی ذات پر حملے کرنے۔یہی جواب مجھ سے محبت رکھنے والے غیر مبایعین کو دیں گے۔کہ ایسی حالت میں جبکہ تم ہمارے امام پر ناپاک اور گندے اعتراض کرتے ہو۔ہم جنگل کے درندوں سے اور شور زمین کے سانپوں سے صلح کر سکتے ہیں۔مگر تم سے صلح نہیں ہو سکتی۔اگر تمھاری صلح کی نیت ہے تو صلح والے کام بھی کرو۔اگر وہ ایسے اعتراضات اور نیش زنیوں سے باز نہیں آئیں گے تو پھر میں بھی اپنے آدمیوں کو جو ان کے مقابل لکھنا جانتے ہیں۔لکھنے کی اجازت دے دوں گا۔حضرت خیلفہ اول نے ایک دفعہ ان لوگوں کو فرمایا تھا۔جو آپ پر جماعت میں سے اعتراض کرتے رہتے تھے کہ یاد رکھو میرے پاس ایسے خالد ہیں جو تمھیں سیدھا کر دیں گے۔میں بھی کہتا ہوں کہ میرے پاس بھی خالد موجود ہیں۔جنہیں میں نے اس وقت تک روکا ہوا ہے۔جب وہ میری ذات پر اعتراضات سنتے ہیں۔اور میں انہیں جواب دینے سے روکتا ہوں۔تو ان کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔ان کے پاس ایسے ایسے جواب ہیں کہ جن کے لکھنے کے بعد اعتراض کرنے والوں کو شرم کے مارے منہ چھپانے کی بھی جگہ نہیں ملے گی۔ایسی صورت میں ہمارا جواب سے خاموش رہنا ہماری شرافت پر دلالت کرتا ہے۔اور ان کا ہم پر اعتراضات کرتے جانا ان کے کمینہ پن کو ظاہر کرتا ہے۔لیکن اب جب کہ وہ حد سے بڑھ رہے ہیں۔اگر ہماری طرف سے انہیں جواب دئے گئے۔تو پھر ہم پر کسی کو گلہ نہیں ہونا چاہئے۔ہمارے پاس ایسے لکھنے والے موجود ہیں۔جن کے جوابات سے پہلے ایک دفعہ وہ چلا اٹھے تھے۔ان کے ہاتھ میں اب بھی قلمیں موجود ہیں اور واقعات بھی پہلے سے زیادہ موجود ہیں پھر ان کے لئے جواب میں لکھنا کیا مشکل ہے۔مگر میں پھر کہتا ہوں۔کیا حقیقت ہے ان پرزوں کی جو صلح کے متعلق لکھے گئے اور ان تجویزوں کی جو صلح کے لئے کی گئیں۔جب دماغ دشمنی کے خیالات اور افکار سے پراگندہ ہیں تو پھر قلم کی تحریروں اور منہ کی باتوں پر کیا اعتبار ہو سکتا ہے۔