خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 83

83 آگے جھکنے کی نسبت ایک خدا کے آگے جھکنا آسان ہے۔اس میں کم محنت ہوگی اور کون نہیں چاہتا کہ کم محنت اٹھائے۔مگر بات یہ ہے کہ صرف خدا کے آگے جھکنا عبادت نہیں۔گو خالص عبادت اسی کے لئے کی جائے نماز روزہ اسی کے لئے ہو۔مگر صرف یہی کام کرنا اگر دوسروں کو ملا کر دیکھا جائے تو بہت آسان ہو گا۔مسلمانوں میں سے ایسے لوگ ہیں جو نماز پڑھتے ہیں۔اور پھر سنتیں سید عبد القادر کے لئے پڑھتے ہیں وہ زیادہ عبادت کرتے ہیں۔پس عبادت سے مراد محض نماز روزہ نہیں۔بلکہ اس سے مراد کامل فرمانبرداری ہے۔کامل استقطاع اور کامل تذلل ہے۔اس طرح یہ نہیں کہہ سکتے کہ صرف ظاہری عبادت خدا تعالیٰ کے لئے ہے۔اس کو عبادت میں سے نکال نہیں سکتے۔کیونکہ یہ بھی عبادت ہے۔مگر صرف ان ظاہری اعمال کو عبادت نہیں کہہ سکتے۔کیونکہ جس طرح ہم خدا تعالیٰ کے یہ احکام مانتے ہیں۔اسی طرح دوسروں کے احکام بھی مانتے ہیں۔مثلا ایک شخص کسی کا ملازم ہوتا ہے تو اس کے احکام مانتا ہے۔اور خدا تعالٰی کی نسبت اس کے احکام کی تعمیل میں زیادہ وقت صرف کرتا ہے۔اس وجہ سے اس طرح کی عبادت صرف خدا کے لئے نہ ہوئی۔اب سوال یہ ہے کہ وہ کیا طریق ہے کہ انسان دوسرے کاموں میں مصروف ہوتا ہوا بھی خداتعالی کی عبادت میں لگا رہے۔اور جس میں امکان ہو کہ اس کا ایاک نعبد کا دعویٰ صحیح ہو سکتا ہے۔یہ ظاہر ہے کہ سوائے قلبی، ذہنی اور فکری عبادت کے اور کوئی عبادت ایسی نہیں ہو سکتی جو صرف خدا تعالیٰ کے لئے ہو۔کیونکہ یہ ممکن ہے کہ انسان کے ہاتھ پاؤں، آنکھ ، کان زبان اور کاموں میں مصروف ہوں۔مگر وہ اپنے دل کو محض اللہ تعالیٰ کی طرف لگائے رکھے۔جیسے صوفیاء نے کہا ہے دست در کار دل با یار انسان دنیا کے کام کرے وہ بھی ایک رنگ میں عبادت ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔شخص اپنی بیوی کو ایک لقمہ دیتا ہے یہ بھی اس کی عبادت ہے۔اگر وہ اس نیت سے دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ میں بیوی کو کھانے کے لئے دوں۔پس اگر ایک انسان اپنی نیت درست کر لیتا ہے۔اور اگر اپنے تمام کاموں میں جڑھ یہی قرار دے لیتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کرے تو اس کا ہر کام عبادت کہلا سکتا ہے۔اگر وہ روزی اس لئے کماتا ہے کہ خدا کا حکم ہے کہ خود کماؤ دوسروں پر بار نہ بنو۔خدا کا حکم ہے کہ اپنی زندگی لغو نہ گزارو۔خدا کا حکم ہے کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔خدا کا حکم ہے کہ بیوی بچوں کی ضروریات مہیا کرو۔اس نیت سے اگر وہ ظاہری کام کرتا ہے تو وہ خدا کی عبادت میں لگا ہوگا۔پس معلوم ہوا کہ حقیقی عبادت قلب کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔یہی وجہ ہے