خطبات محمود (جلد 10) — Page 73
73 نماز روزہ اور زکواۃ کس طرح ادا کرے گا۔نماز کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ باجماعت ادا ہو۔پھر اگر غرباء اور مساکین نہ ہوں۔تو زکوۃ کن کو دے گا۔پس تقریبا" تمام احکام شریعت تمدن کو چاہتے ہیں۔اور ان کو وہ محسوس کرتا ہے۔جب تمدن کا احساس انسان میں پیدا ہوتا ہے۔تو اس موقعہ پر وہ اپنے حقوق چھوڑتا ہے۔اور قربانی کرتا اور ایثار سے کام لیتا ہے۔وہ دیکھتا ہے کہ کون سی بات بہتر اور کون سی بات مضر ہے۔پھر جو اسے بہتر نظر آتی ہے۔اس کے متعلق دیکھتا ہے۔کیا اس سے قوم میں تفرقہ تو نہیں پڑتا۔اور اگر اسے تفرقہ پڑتا ہوا نظر آئے۔تو باوجود اس کے کہ وہ بات اس کی اپنی ذات کے لئے مفید ہو۔وہ اسے قوم کی خاطر چھوڑ دیتا ہے۔اور یہی پسند کرتا ہے کہ اپنا نفع تو چھوڑ دوں۔لیکن قوم کا نقصان نہیں کر سکتا۔چونکہ اس میں قوم کا فائدہ ہوتا ہے۔اس لئے وہ قومی مفاد کی حفاظت کے واسطے اور اس کے ساتھ اتفاق کے لئے اسے چھوڑ دے گا۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمدن قائم رہے گا۔یہ مالک یوم الد بن کے ماتحت ہوتا ہے۔پھر یہی حالت انفرادی نقصان کے ساتھ ہے۔جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ انفرادی طور پر تو بیشک مجھے اس سے نقصان ہے۔لیکن میرے اس نقصان سے جماعت کو فائدہ ہوتا ہے تو وہ اپنے نقصان پر جماعت کے فائدے کو ترجیح دیتا ہے۔اور اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ میرا نقصان ہوتا ہے۔مجھے اپنے آپ کو بچانا چاہئے۔اور اگر کوئی اسے کہتا بھی ہے تو وہ کہتا ہے میں مجبور ہوں۔میری قوم کہتی ہے کہ ایسا کرو یا ایسا نہ کرو۔اور میری قومی حیثیت تقاضا کرتی ہے کہ میں اس کے فائدہ کو ہر وقت مد نظر رکھوں۔یہ تین صفات ہیں۔جو انسان میں پیدا ہوتی ہیں۔ان میں سے جو انانیت کی صفت ہے۔بیشک یہ صفت یہ تقاضا تو کرتی ہے کہ انسان اپنے وجود کو علیحدہ اور نمایاں طور پر دکھلائے۔لیکن قوم سے کٹ کر نہیں۔بلکہ قوم کے ساتھ منضبط رہ کر۔بیشک یہ صفت ایک رنگ میں ایک حد تک غیر محدود بھی ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ اپنی ذات میں محدود بھی ہے۔اور ایک انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے وجود کو علیحدہ اور الگ دکھلائے لیکن قوم کے ساتھ رہ کر۔قرآن شریف میں مومن کے متعلق آیا ہے کہ وہ سابق بالخیرات ہوتا ہے۔گویا مومن کے لئے یہ بھی ایک شرط ہے۔کہ وہ آگے بڑھنے کی کوشش کرے۔پس جو مومن ہوتے ہیں وہ سباق کرتے ہیں۔مگر سباق کرنے کے یہ معنے نہیں کہ دوسرے کو لتاڑ کر اور پچھاڑ کر آگے بڑھے۔بلکہ یہ ہیں کہ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ بڑھائے اور جو جس حال میں ہے آگے بڑھتا جائے۔اس کے معنے یہ ہوں گے کہ سارے آگے بڑھ رہے ہیں۔