خطبات محمود (جلد 10) — Page 63
63 7 انعام حاصل کرنے کی نسبت انعام قائم رکھنا مشکل ہے (فرموده ۱۳ فروری ۱۹۲۶ء) تشہیر، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : روحانی امور ایسے پیچیدہ اور نازک ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ بعض بڑی نظر آنے والی باتیں ایسے نتائج پیدا نہیں کرتیں جیسے کہ بعض وقت خفیف سے خفیف باتیں نتائج پیدا کرتی ہیں۔بڑی بڑی خدمات بعض دفعہ ایک لفظ کے ساتھ ضائع ہو جاتی ہیں۔اور بعض دفعہ بڑا لمبا کفر ایک فقرہ کے ساتھ دھویا جاتا ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ کفار مکہ اسلام کے مٹانے میں اس قدر زور خرچ کرتے رہے ہیں کہ کوئی صورت مخالفت کی خالی نہ رہی۔ہر زمانہ میں نبیوں کے دشمنوں نے ایسا ہی کیا۔مگر رسول کریم کی مخالفت میں جو زور لگایا گیا اس سے بڑھ کر انسان کی انسانیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مخالفت ممکن نہیں۔جھوٹ اور نفرت سے انہوں نے پرہیز نہ کیا۔قتل و غارت سے انہوں نے پرہیز نہ کیا۔عزت و آبرو برباد کرنے میں انہوں نے کوئی دقیقہ نہ چھوڑا۔فساد پھیلانے اور جھوٹی روایتوں کے بیان کرنے سے انہوں نے کوئی پرہیز نہ کیا۔اور جو لوگ نیکی کو قبول کرنا چاہتے تھے ان کو نیکی سے روکنے میں اور جو بدی کو پھیلانا چاہتے تھے ان کی امداد کرنے میں انہوں نے کوئی کمی نہ چھوڑی۔انہیں لوگوں اور سرداروں میں سے ایک ابو سفیان تھے۔جو آخر زمانہ تک اسلام کا برابر مقابلہ کرتے رہے۔اور آخر زمانہ تک رسول کریم کے خلاف بھڑکاتے رہے۔اور آپ کے خلاف لڑتے رہے۔حتی کہ آپ پر حملہ آور ہوتے رہے۔پھر آپ کے خلاف نہ صرف خود انہوں نے تلوار چلائی۔بلکہ ان کی بیوی نے بھی تلوار چلانے میں حصہ لیا۔لیکن نہ معلوم وہ کیا چیز تھی جس نے ان کو