خطبات محمود (جلد 10) — Page 53
53 ہیں دوائی کا اثر نہیں ہوا۔اور اگر اس نے آہستہ آہستہ مرض کو روک دیا تو سمجھا جاتا ہے اس نے اثر کیا۔پھر بعض دوائیں فوری اثر کرتی ہیں اور انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے کہ آنا فانا کس طرح صحت ہو گئی۔پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جہاں دوائی نے اثر نہ کیا وہاں سمجھا جا سکتا ہے۔کہ مریض ہی کی حالت اس دوائی کے لائق نہ تھی۔یا طبیب نے ہی غلط نسخہ تجویز کیا ہو۔یا اگر طبیب نے صحیح نسخہ تجویز کیا ہو تو تیمار داروں نے ہی احتیاط نہ کی ہو۔لیکن یہ بات بالکل درست ہے کہ جہاں غیر معمولی تغیر پیدا ہو وہ ضرور دوائی کا اثر ہوتا ہے۔اسی معیار پر انبیاء کے کام کو بھی دیکھا جاتا ہے۔اگر اعلیٰ نمونوں کو چھوڑ کر انبیاء کی جماعت میں سے صرف یہی دیکھیں کہ فلاں میں کمزوری ہے۔فلاں میں نقص ہے فلاں میں عیب ہے تو کسی نبی کی بھی نبوت ثابت نہیں ہو سکتی۔کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس کی امت میں کمزور آدمی نہ ہوئے ہوں۔یا جس کی امت میں نقص رکھنے والے اشخاص نہ پائے گئے ہوں۔نبی کی امت انتخاب کے ذریعہ نہیں بنائی جاتی کہ جو لوگ اچھے اچھے ہوں انہیں منتخب کر لیا جائے۔اس کی مثال تو ہسپتال کی طرح ہے۔جہاں مختلف مرضوں والے آتے ہیں اور شفا پاتے ہیں۔جس طرح ایک ڈاکٹر ہسپتال میں ایک مریض کی صحت کے لئے سعی کرتا ہے اسی طرح ایک نبی کا کام ہے کہ وہ اپنی جماعت کی کمزوریوں اور نقصوں کی اصلاح کی کوشش کرے۔نبی تو اس شخص کی بھی اصلاح کی کوشش کرے گا جو کمزوریوں کی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔اور اسے چھوڑ نہیں دیتا۔جس طرح کہ ڈاکٹر اگر ایک مرتے ہوئے مریض کے پاس بھی بلایا جاتا ہے تو بھی نسخہ تجویز کرتا ہے اور یہ نہیں کہتا کہ اب علاج نہ کراؤ۔اعلیٰ ڈاکٹر تو ایسے نازک وقت میں بھی دوائی تجویز کرنے سے انکار نہیں کرتا۔لیکن بعض نادان ایسے ہوتے ہیں جیسا کہ آج کل بھی بعض لوگ ہیں کہ بعض ان مریضوں کو جو سخت بیمار ہوتے ہیں۔اور جن کی مرض لمبی چلی جاتی ہے اس خیال سے کہ بچنا تو ہے نہیں آج نہ مرا تو کل مرے گا بیمار کو خود ہی مار ڈالتے ہیں۔لیکن عقلمند لوگ ایسا نہیں کرتے۔بلکہ وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بعض دفعہ ایسے مریض تندرست ہو جاتے ہیں۔جن کے بچنے کی قطعا " توقع نہیں ہوتی۔چنانچہ بیسیوں ایسے مریض دیکھے گئے ہیں کہ وہ لا علاج قرار دیئے گئے۔مگر ان کو صحت حاصل ہو گئی۔تھوڑے ہی دن ہوئے ہمارے ایک ڈاکٹر نے اسی قسم کا ایک واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ ایک سل