خطبات محمود (جلد 10) — Page 54
54 کی مریضہ میرے پاس آئی۔اس کی حالت اس قدر خراب تھی کہ میں نے سمجھا یہ بچ نہیں سکتی ضرور مر جائے گی۔چونکہ اپنے پیشے کے لحاظ سے مریض کو جواب نہیں دیا جا سکتا۔اس لئے اس کی تسلی کے لئے کچھ نہ کچھ دوائی دینی پڑتی ہے۔میں نے سکاٹس ؛ مشن اور آئیڈو فارم ملا کر اسے دے دیا۔اور اس کے ساتھ والوں کو کہہ دیا کہ یہ اسے کھلایا کرو۔وہ اسے چارپائی پر اٹھا کر لائے تھے۔چند ماہ کے بعد ایک عورت آئی جو بالکل تندرست تھی وہ اپنے ساتھ کچھ پھل اور کچھ اور چیزیں لائی اور مجھے دینے لگی۔میں نے پوچھا یہ کیسے ہیں۔ساتھ کے آدمی کہنے لگے۔ڈاکٹر صاحب پہچانتے ہو یہ کون عورت ہے۔جب میں نے کہا نہیں۔تو انہوں نے بتایا یہ وہی عورت ہے جسے چار پائی پر اٹھا کر لائے تھے اور آپ نے نسخہ دیا تھا اب تندرست ہو گئی اور آپ کی خدمت کرنا چاہتی ہے۔تو بسا اوقات ڈاکٹر بھی ایک مریض کے متعلق خیال کر لیتے ہیں کہ یہ مرجائے گا۔مگر وہ بعد ازاں صحت یاب ہو جاتا ہے۔جب دنیا میں ایسے نمونے نظر آتے ہیں کہ ایسا مریض جس کے متعلق ہر ایک سمجھتا ہے کہ مر جائے گا بچ رہتا ہے۔تو کیونکر عقل اجازت دے سکتی ہے کہ اسے زہر دے دیا جائے اور اسے مار دیا جائے۔اور پھر ان روحانی مریضوں کے متعلق بھی یہ کہہ دیا جائے کہ ان کی اصلاح نہ ہوگی۔حالانکہ وہ علاج کے لئے ایک نبی کے پاس آتے ہیں۔ایک شخص کی لات میں کچھ خرابی واقع ہو گئی۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لکھا کہ میں نے ہر چند علاج کیا کہ آرام آجائے مگر نہ آیا۔اب ڈاکٹر کہتے ہیں لات کٹوا ڈالو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اپنی طرف سے پوری کوشش کرنی چاہئے کہ بچ سکے اگر ڈاکٹروں سے فائدہ نہیں ہوا تو اب کچھ دیر کسی نائی سے جو جراحی کا کام کرتا ہو علاج کرا کر دیکھیں شائد اس سے ہی فائدہ ہو جائے۔چھ سات ماہ کے بعد اس شخص نے لکھا کہ آپ کے مشورہ سے یہ فائدہ ہوا کہ لات کٹنے سے بچ گئی اور اب درست ہو گئی ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ کبھی ایسی بھی ضرورت آپڑتی ہے کہ کوئی عضو کاٹ دیا جائے اور چونکہ زندگی کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔اس لئے اگر کانا پڑ جائے تو حرج بھی نہیں ، کیونکہ ایک عضو کے بالمقابل ایک جان کی بہت قیمت ہے۔اس لئے اس جان کے بچانے کے لئے بعض دفعہ عضو کاٹ دیا جا سکتا ہے۔میری غرض اس سے یہ ہے کہ عظمند ڈاکٹر بھی انتہائی حالت میں تدبیر نہیں چھوڑتا۔اگر وہ موت کے منہ سے نہیں بچا سکتا تو تکلیف سے تو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔انبیاء کی جماعت کا بھی یہی حال ہے۔ہر قسم کے لوگ اس میں آتے ہیں۔بعض سچائی کے لئے آتے ہیں۔بعض دنیاوی