خطبات محمود (جلد 10) — Page 300
300 وجہ ہوتی ہے کہ ان کو زیادہ تر خوبیاں دکھائی دیتی ہیں۔• چنانچہ ایک قصہ مشہور ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاء کو بعض جگہ جلوہ الہی نظر آجاتا تھا اس لئے ایک دفعہ آپ نے رستہ میں جاتے ہوئے ایک خوبصورت لڑکے کو چوم لیا اس وجہ سے کہ اس میں آپ کو اللہ تعالٰی کا جلوہ نظر آیا۔دوسرے مریدوں نے بھی اس کو چوم لیا۔لیکن آپ کے ایک مرید نے جو بعد میں آپ کا خلیفہ ہوا نہ چوما تو دوسرے مرید اسے کہنے لگے کہ تم نے کیوں نہیں اسے چوما جب کہ اس کو پیر صاحب نے چوم لیا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ تم مرید نہیں ہو۔تو انہوں نے کہا کہ تم کو اس میں خدا کا جلوہ نظر آیا ہو گا اس لئے تم نے چوم لیا مجھے نہیں نظر آیا تو میں کیونکر چومتا۔آگے جا کر حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ نے آگ کو چوم لیا تو وہاں دوسرے مرید پیچھے ہٹ گئے لیکن اس مرید نے آگے بڑھ کر اسے چوما۔اس نے کہا اب یہاں تمہیں کیوں نہیں جلوہ نظر آتا۔اصل بات یہ ہے کہ جیسے جیسے انسان خدا کے قریب ہوتا جاتا ہے اتنا ہی اسے ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کا جلوہ نظر آتا ہے۔اور یہ بات دعا سے حاصل ہوتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے واذا سألك عبادي عنی فانی قریب (البقرہ ۱۸۷) کہ دعا کرنے والے کے میں قریب ہو جاتا ہوں۔پس اگر کوئی بات ہے کہ جس سے انسان اللہ تعالیٰ کے قریب ہو جاتا ہے تو وہ صرف دعا ہے۔ہاں بعض لوگ نادانی سے اس کا غلط استعمال کر لیتے ہیں۔بے شک ہر بات اللہ تعالی ہی پوری کرتا ہے اور دعاؤں کو وہی سنتا ہے۔لیکن جو قانون اس نے باندھے ہوئے ہیں انہیں وہ یونہی نہیں توڑ تا مثلاً اس نے پیاس بجھانے کے لئے پانی دیا ہوا ہے تو اس کے محض دعا کرنے سے خود بخود ہی اس کے منہ میں نہیں آجائے گا اس کے حاصل کرنے کے لئے اس کو صحیح کوشش بھی کرنی پڑے گی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہی دعا بتلائی ہے اور اللہ تعالی ہی نے کنویں بھی بنائے ہیں۔تو ہمیں دعا کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس نے قانون بھی بنائے ہوئے ہیں۔جن کے ماتحت ہمیں دعا کرنی ہے۔اب مثلاً کوئی کہے کہ مانگو جو مجھ سے مانگنا چاہتے ہو تو اس کا یہی مطلب ہو گا کہ اس کے قانون کے ماتحت مانگو نہ کہ اس کے قانون کو توڑتے ہوئے مانگو۔اور اللہ تعالیٰ کے قوانین وہ ہیں جو ہماری پیدائش سے بلکہ ہمارے آباؤ اجداد کی پیدائش سے بھی پہلے کے ہیں۔دوسری بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ ہر دعا کا قبول ہونا ضروری نہیں کیونکہ اصل غرض ہماری پیدائش کی یہ نہیں کہ ہمیں مکان مل جائے یا زمین مل جائے یا گھوڑا مل جائے بلکہ اصل غرض تو یہ ہے کہ ہمارے نفس پاک ہوں یہ چیزیں تو عارضی ہیں اور اصل غرض کو پورا کرنے کے لئے یعنی نفس