خطبات محمود (جلد 10) — Page 277
277 اپنے خیال میں ملک کی خدمت کی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک میں ایک محبت کی رو چل گئی اور پھر تمام ملک ایک ہو گیا۔پھر اس زمانہ میں بھی حضرت مسیح موعود کی تازہ مثالیں موجود ہیں جس جس رنگ میں دشمنوں نے آپ کا مقابلہ کیا۔دوست جانتے ہیں دشمنوں نے گھماروں کو آپ کے برتن بنانے سے سقوں کو پانی دینے سے بند کر دیا۔لیکن پھر جب کبھی وہ معافی کے لئے آئے تو حضرت صاحب معاف ہی فرما دیتے تھے ایک دفعہ آپ کے کچھ مخالف پکڑے گئے۔تو مجسٹریٹ نے کہا کہ میں اس شرط پر مقدمہ چلاؤں گا کہ مرزا صاحب کی طرف سے سفارش نہ آئے۔کیونکہ اگر انہوں نے بعد میں معاف کر دیا تو پھر مجھے خواہ مخواہ ان کو گرفتار کرنے کی کیا ضرورت ہے۔مگر دوسرے دوستوں نے کہا کہ نہیں اب انہیں سزا ضرور ہی ملنی چاہئے۔جب مجرموں نے سمجھ لیا کہ اب سزا ضرور ملے گی تو انہوں نے حضرت صاحب کے پاس آکر معافی چاہی تو حضرت صاحب نے کام کرنے والوں کو بلا کر فرمایا کہ ان کو معاف کر دو۔انہوں نے کہا ہم تو اب وعدہ کر چکے ہیں کہ ہم کسی قسم کی سفارش نہیں کریں گے تو حضرت اقدس فرمانے لگے کہ وہ جو معافی کے لئے کہتے ہیں تو ہم کیا کریں۔مجسٹریٹ نے کہا دیکھا وہی بات ہوئی جو میں پہلے کہتا تھا مرزا صاحب نے معاف ہی کر دیا۔کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا تو ہم کہتے ہیں کہ بے شک آج دنیا اس کو محسوس نہیں کرتی۔لیکن ایک وقت آئے گا کہ جب تاریخوں میں واقعات پڑھے جائیں گے تو یہی واقعات لاکھوں آدمیوں کی ہدایت کا موجب ہوں گے۔آج اگر پچاس آدمیوں پر اس واقعہ کا اثر ہے تو کل ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں ہزاروں آدمیوں پر یہ واقعات اثر کریں گے۔دیکھو یہی واقعہ جو حضرت نبی کریم ﷺ کا میں نے سنایا ہے۔بیشک اس نے اس وقت بھی اثر دکھایا۔لیکن اگر اس وقت بھی اس کا وہ اثر نہ ہوتا تو کچھ بات نہ تھی۔آج جس مجلس میں بھی اس کا ذکر کرتے ہیں تو خطرناک سے خطرناک دشمن کی نگاہیں بھی نیچی ہو جاتی ہیں تو اس واقعہ کا آج آکر اثر ہوا۔ایک دفعہ ایک افسر نے حضرت مسیح موعود سے ایک معاملہ میں کہا کہ یہ لوگ آپ کے شہری ہیں آپ ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کریں تو حضرت صاحب نے فرمایا۔اس بڑھے شاہ ہی کو پوچھو کہ آیا کوئی ایک موقعہ بھی ایسا آیا ہے جس میں اس نے اپنی طرف سے نیش زنی نہ کی ہو اور پھر اس سے ہی پوچھو کہ کیا کوئی ایک موقعہ بھی ایسا آیا ہے کہ جس میں میں اس پر احسان کر سکتا تھا اور پھر میں نے