خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 278

278 اس کے ساتھ احسان نہ کیا ہو۔آگے وہ سر ڈال کر ہی بیٹھا رہا۔یہ ایک عظیم الشان نمونہ تھا آپ کے اخلاق کا۔پس ہماری جماعت کو بھی چاہئے کہ وہ اخلاق میں ایک نمونہ ہو۔معاملات کی آپ میں ایسی صفائی ہو کہ اگر ایک پیسہ بھی گھر میں نہ ہو تو امانت میں ہاتھ نہ ڈالیں۔اور بات اتنی میٹھی اور ایسی محبت سے کریں کہ جو دوسرے کے دل پر اثر کرے۔میں نے تو آج تک محبت سے زیادہ اثر کرنے والی کوئی بات نہیں دیکھی۔اس لئے ہماری جماعت کا بھی محبت آمیز شعار ہو جانا چاہئے کہ جب کوئی بات کرے تو ہر آدمی محسوس کرے کہ اس کے اندر اخلاص ہے اور اس کا دل محبت سے بھرا ہوا ہے۔کبھی طعنہ سے کام نہ لو۔میرے نزدیک سچے مذہب کے پیروؤں کا دلیل کے ساتھ دوسرے پر غالب آجانے پر ہنسنا سخت کمینگی ہے۔کیونکہ دلیل تو خدا کی دی ہوئی چیز ہے کہ جیسے ایک جوان آدمی ایک بچہ پر ہے۔دوسروں کی کمزوری تو بچوں کی طرح ہے جو آباؤ اجداد سے چلی آئی ہے۔اس لحاظ سے ان میں ایک طبعی کمزوری ہے۔اور دوسرے کی دی ہوئی طاقت کے باعث دوسرے کو کمزور سمجھنا شرافت کے خلاف ہے۔پس گفتگو میں تحمل اور شیرینی پیدا کرو۔قربانی و ایثار کا مادہ ہو۔ہمدردی اور محبت ہو۔طعن اور طنز و تشنیع نہ ہو۔پھر اس کے ساتھ تبلیغ کا جوش ہو۔وہ جوش جو لڑائی کو دیکھ کر اور مباحثات میں پیدا ہوتا ہے وہ سچا جوش نہیں ہوتا۔اگر یہی سچا جوش ہے تو وہ غنڈوں میں بھی موجود ہے۔اب کیا تمام غیرت اسلامی ان غنڈوں میں ہی آگئی ہے۔صرف ایک خاص وقت میں ان کے جوش کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کی طبائع کمزور ہوتی ہیں۔اس وقت ان کا بگڑنا اور لڑنا غیرت اسلامی پر دلالت نہیں کرتا۔بلکہ ان کے بدمعاش ہونے پر دلالت کرتا ہے۔سچا جوش وہ ہے جو ٹھنڈے وقت میں بھی ہو۔آخر میں میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی تمام جماعت کو اس بات کی توفیق دے کہ وہ اسلام کا سچا نمونہ بن کر دکھائے۔اور وہ اپنی غلطیوں سے اسلام کی ترقی کو پیچھے نہ ڈالنے والے ہوں۔(الفضل ۳۰ نومبر ۱۹۲۶ء) ا طبقات ابن سعد القسم الثانی صہ ۱۸۹