خطبات محمود (جلد 10) — Page 276
276 ہے۔لا تثريب عليكم اليوم جاؤ آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔بس پھر کیا تھا۔اس ایک فقرہ نے چند منٹ کے اندر وہ کام کیا جو دس سال کی جنگیں نہ کر سکیں۔وہ لوگ جو گھروں میں دروازے بند کئے بیٹھے تھے۔عورتیں اور بچے بھی مارے خوف کے کانپ رہے تھے کہ اب معلوم نہیں کیا ہو گا۔اب ہمارے مظالم کی ہمیں کیا کیا سزائیں ملیں گی اور مکہ کا ہر گھر ماتم کدہ بنا ہوا تھا۔جب آنحضرت کی طرف سے اس حیات بخش اعلان کو سنا تو تمام لوگ بھاگتے ہوئے آنحضرت ایتا ہے قدموں پر آگرے۔کس حیرت اور تعجب کے ساتھ مکہ کے لوگوں نے وہ آوازیں سنی ہوں گی جو مکہ کی گلیوں میں ایک سرے سے دوسرے تک پھیل گئیں اور حیات بخش کلام نے ان کے اندر کیا تغیر الليل کے پیدا کیا ہو گا۔اب دیکھو تلواریں وہ کام نہ کر سکیں جو محبت کے تیر نے کام کیا لا تشریب علیکم الیوم کا ایک ہی تیر مکہ کے دلوں کو فتح کرتا ہوا چلا گیا۔پھر جس وقت اطراف مکہ میں یہ آواز پہنچی تو وہ بھی ایک دوسرے سے بڑھ کر ایمان لانے میں مقابلہ کر رہے تھے۔کیونکہ وہ تو مکہ کی تباہی کی خبر کے منتظر تھے۔لیکن اس کے بالکل خلاف جب انہوں نے یہ سلوک دیکھا تو ان کے دل بالکل بے اختیار ہو گئے۔شائد کوئی کہے کہ نبی کریم اللہ تو نبیوں کے سردار تھے تو میں ایک کافر کی مثال سناتا ہوں۔امریکہ کا ایک پریذیڈنٹ تھا اس کے دل میں غلامی کی رسم کے خلاف خیال پیدا ہوا اور اس نے ایک مسودہ قرار دیا کہ جس میں غلامی کی رسم کی ممانعت کا اعلان کیا۔لیکن امریکہ کہ جس کی تمام دولت کا انحصار غلاموں پر تھا اس کے روسا نے فیصلہ کے خلاف آواز اٹھائی اور انہوں نے کہا کہ ہماری ریاست علیحدہ کردو۔پریزیڈنٹ نے کہا جب تم پہلے شامل ہو چکے ہوئے ہو تو اب تم علیحدہ نہیں ہو سکتے۔آخر نتیجہ یہ ہوا کہ جنگ چھڑ گئی۔جس میں پہلے تو پریذیڈنٹ کے مقابل فریق کا پلہ بھاری رہا کیونکہ وہ لوگ بوجہ زمیندار کے مضبوط تھے لیکن آخر پھر پریذیڈنٹ کو ہی کامیابی حاصل ہوئی اور اسے دوسرے علاقہ پر فتح حاصل ہوئی اور دوسروں کا لیڈر مارا گیا اور پریذیڈنٹ کی قوم نے بڑے بڑے افسروں نے بڑے جلوس نکالنے کا ارادہ کیا۔اور اس میں پریذیڈنٹ کو بھی بڑی شان کے ساتھ نکالنے کا ارادہ کیا۔بڑے بڑے لوگ ایک شاندار جلوس نکالنے کی تیاریاں کر چکے تو پریذیڈنٹ کو بلایا۔اس نے کہا یہ جلوس کیسا؟ افسروں نے جواب دیا کہ آپ کے لئے جلوس نکالنا چاہتے ہیں۔تو اس نے جواب دیا کہ جب میں حبشیوں کو غلام بنانا پسند نہیں کرتا تو اپنے بھائیوں کو کیسے غلام بنا سکتا ہوں۔یہ دوسرے لوگ میرے بھائی ہیں۔جس طرح میں نے ملک کی خدمت کی اسی طرح انہوں نے بھی