خطبات محمود (جلد 10) — Page 275
275 بھی مجبور ہوں کیونکہ میرا مذہب مجھے ایسی ہی برداشت ، محبت، نرم دلی سکھاتا ہے۔آخر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک شخص بڑے جوش کے ساتھ کھڑا ہوا اور نہ صرف علی الاعلان عیسائیت کو قبول کیا بلکہ زمین بھی گر جا کے لئے دی۔جہاں گر جا بنایا گیا۔پھر اسی طرح چین میں بھی عیسائیت کی تبلیغ کی گئی اور آج وہاں بڑے بڑے خاندان سب عیسائی ہو چکے ہیں۔یہ سب بناوٹی اخلاق کا نتیجہ ہے۔جب یہ بناوٹی اخلاق دنیا کو جیت سکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ بچے اخلاق دنیا کو نہ جیت سکیں۔بار بار تجربہ ہوا ہے کہ مباحثات سے وہ کامیابی نہیں ہوئی جو اخلاق سے حاصل ہوئی ہے۔چنانچہ ہمارے ایک دوست ہیں جو ایسی ایسی جگہوں میں جاتے ہیں۔جہاں کسی طرح بھی احمدیت نہیں پھیل سکتی تھی۔ان کے جانے سے وہاں جماعتوں کی جماعتیں قائم ہوئیں ہیں اور وہ ان کے اخلاق کا نتیجہ ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ چیز جسے ہمارے کان نہیں قبول کرتے اسے ہمارے دل کیسے مان سکتے ہیں۔تم ہی اپنے نفسوں کو دیکھو کہ اگر تمھیں کوئی طعنہ یا سختی کے ساتھ بات منوانا چاہے تو کیا تم اس کی بات خوشی سے ماننے کے لئے تیار ہو گے۔اگر کوئی سختی کے ساتھ بات سمجھانا چاہے اور گالیاں دینا شروع کر دے تو کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ اس کی محبت سے تمھارا دل بھر گیا ہو۔پس جو کام محبت اور اخلاص سے ہو سکتا ہے وہ اور کسی ذریعہ سے نہیں ہو سکتا۔محبت کے ہاتھ کا دنیا کی کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی۔تلواریں وہ کام نہیں کرتیں جو محبت کام کرتی ہے حضرت نبی کریم ﷺ کے ہی ایک زمانہ کو دیکھ لو جس میں دس سال تک مسلمانوں نے تلواریں اٹھائیں۔لیکن اس زمانہ میں اسلام اس طرح نہیں پھیلا جس طرح کہ اس وقت پھیلا جب کہ اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو موقع دیا کہ جس میں مسلمان محبت کا اظہار کر سکتے تھے۔جب اللہ تعالی نے مسلمانوں کو غلبہ اور طاقت دی تو اس وقت مسلمانوں نے محبت کا اظہار کیا۔جب آنحضرت ا نے مکہ کو فتح کیا تو آپ نے کفار مکہ سے پوچھا کہ تئیس سالہ مظالم جو تم نے مسلمانوں پر کئے آج بتاؤ تم سے کیا سلوک کیا جائے۔انہوں نے وہی جواب دیا جو ایسے وقت میں مجبوری کے ماتحت مفتوح و مجرم قو میں دیا کرتی ہیں کہ آپ ہمیں معاف کر دیں۔یہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ ایک طبعی بات تھی اور وہ ایک شکست خوردہ کی آواز تھی۔لیکن محمد رسول اللہ نے اس جواب کے خلاف کہا جو عام طور پر فاتح شخص دیا کرتا ہے۔عام طور پر تو یہی جواب دیا جاتا ہے کہ ابھی تم نے کیا دیکھا ہے لیکن حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو کچھ تم نے کہا ہے ٹھیک