خطبات محمود (جلد 10) — Page 261
261 شخص جسے ہر شخص پاگل خیال کرتا ہے اس قدر بڑھے گا کہ دنیا کے عقلمند دنیا کے طاقتور دنیا کے عزت دار اس کی غلامی کو فخر سمجھیں گے۔مگر وہ بڑھا اس کی تعلیم دنیا کے گھر گھر میں پھیل گئی بڑے بڑے بادشاہ اس کی غلامی کو فخر سمجھنے لگ گئے۔اور یہ سب اس لئے ہوا کہ اس نے نہایت تاریکی کے دنوں میں خدا کا نام لیا اور خدا نے اسے روشن کرنے کا وعدہ کیا۔پس اے احمدی جماعت کے لوگو! خدا کے وعدوں کی طرف نظر کرو اور سمجھ لو کہ اگر کوئی قوم اس وقت دنیا میں معزز مقبول ہے تو وہ آپ ہی ہیں اور یہ عزت اور مقام ہے جو خدا نے آپ کو بخشا آج اور کسی کو نہیں دیا۔آج تمام دنیا خدا سے منہ پھیرے کھڑی ہے۔اور تم ہی ہو جن کا منہ خدا کی طرف ہے۔پس اے وہ لوگو جو احمدی جماعت سے تعلق رکھتے ہو یاد رکھو کہ آپ نے خدا کے لئے سب کچھ چھوڑا ہے۔خدا کے دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیا ہے اور خدا کی کتاب کے لئے آپ نے کوشش شروع کی ہوئی ہے۔پس خدا اپنی سنت کے مطابق آپ کو ضائع نہیں کرے گا۔اس کی رحمت کے دروازے آپ کے لئے کھلے ہیں۔اپنے دامنوں کو پھیلاؤ اور رحمت سے ان کو بھر لو۔یہ دن روز روز نہیں آتے۔جب احمدیت میں فوجوں کی فوجیں داخل ہوں گی۔جب احمدیت دنیا کے کونہ کونہ میں پھیل جائے گی۔جب احمدیت کے آگے بڑے بڑے بادشاہ آ جھکیں گے تو یاد رکھو پھر وہ دن نہیں رہیں گے جو آج ہیں اور وہ ثواب اور اجر نہیں مل سکے گا جو آج ادنی اونی امور پر مل سکتا ہے۔پس یہ دن بڑے ہی مبارک دن ہیں اور بڑے ہی قدر والے۔اس دن جب کہ احمدیت پھیل جائے گی۔اس دن جب کہ بڑے بڑے لوگ احمدیت کی تعلیم کے جوئے کے نیچے اپنی گردنیں رکھ دیں گے۔اس دن بادشاہ خواہش کریں گے کہ کوئی سلطنت لے لے اور وہ اجر ہمیں حاصل کرا دے جو آج ایک غریب کسان کو مل رہا ہے۔وہ بادشاہتیں لٹا دینے پر تیار ہو جائیں گے مگر سابقین سا اجر حاصل نہ کر سکیں گے۔تیمور کی طرف دیکھو جس نے سارا ہندوستان فتح کر لیا وہ مسلمان بادشاہ تھا۔دین کی خدمت بھی کرتا تھا مگر کیا وہ اس اجر کو پا سکا جو ایک ادنیٰ سے صحابی نے اپنی حقیری خدمت کے ذریعے پایا۔سلطان صلاح الدین ایوبی کو دیکھو۔دین کی خاطر عیسائیوں اور دین کے دشمنوں کے ساتھ کس قدر اس نے جنگیں کیں۔اور پھر اس حالت کو بھی مد نظر رکھو کہ بادشاہ سب کچھ ہی کر سکتا ہے۔لیکن باوجود اس کے وہ اجر میں صحابہ کے برابر نہ ہو سکا۔بادشاہ کیا کچھ نہیں کر سکتا۔سلطان صلاح الدین ایوبی نے کیا کچھ نہ کیا۔اگر یہ ہو سکتا کہ بادشاہت دے کر محمد رسول اے کے صحابہ اور غلاموں کا سا اجر مل سکتا تو وہ یہ بھی کر گزرتا۔مگر وہ جانتا تھا کہ ایسا ہو نہیں سکتا۔نہ صلاح الدین ایوبی اور نہ تیمور اور نہ کوئی اور بادشاہ باوجود سب کچھ کرنے کے محمد رسول اللہ اللی کے صحابہ کے برابر ہو سکا۔لیکن اے احمدی قوم کے لوگو! وہ خدا جس کے اختیار میں سب کچھ ہے۔وہ