خطبات محمود (جلد 10) — Page 21
21 النبین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کیوں نہ ہوں جب ایسا نہیں کر سکے تو کسی اور کی کیا مجال ہے کہ اس کے متعلق اس قسم کی توقع رکھی جائے۔جو چیز انسان کو نجات کے دروازہ پر پہنچاتی ہے وہ اس کی اپنی کامل قربانی ہے اور وہ قربانی جس کے بعد کوئی چیز اس کے اپنے قبضہ میں نہیں رہتی۔حضرت مسیح کا یہ قول کیا ہی لطیف ہے کہ ہر شخص اپنی صلیب آپ اٹھا کر چلے ا نجات پانے کے لئے یہ ضروری ہے۔کہ ہر شخص اپنی صلیب آپ اٹھائے۔پس بیعت کا یہ مفہوم نہیں کہ کوئی شخص ایسا بھی ہو سکتا ہے جو اٹھا کر نجات کے دروازہ پر کسی کو پہنچا دے۔بلکہ بیعت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان ایک انسان کے ہاتھ پر وعدہ کرتا ہے کہ میں اپنی جان مال عزت آبرو آرام آسائش غرض ہر چیز خدا کے رستہ میں قربان کرتا ہوں اگر اس عہد کا پابند رہتا اور مرتے دم تک پابند رہتا ہے تو بے شک وہ نجات پا گیا۔لیکن اگر اس کا پابند نہیں رہتا۔اتنی قربانی نہیں کر سکتا جتنی کا اس سے مطالبہ کیا جائے تو قطعا" نجات نہیں پا سکتا۔خواہ وہ اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے۔خواہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے ہاتھ میں اس نے ہاتھ دیا۔اور خواہ خود محمد اللہ کے ہاتھ میں دیا۔وہ ایک دھوکہ خوردہ یا دھوکہ دینے والا انسان ہے۔اس کی مثال اس پاگل کی سی ہے جو اینٹوں کے ٹکڑوں کو ہیرے اور جواہرات سمجھ کر اپنے قبضہ میں رکھتا ہے۔یا اس فریبی انسان کی سی ہے۔جو پیتل کے سکوں پر پارہ چڑھا کر دوپے کی جگہ استعمال کرنا چاہتا ہے۔ایسے لوگ یا تو اپنے نفس کو آپ ہلاک کر رہے ہیں یا دوسروں کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔کیونکہ وہ بیعت کے اصل مفہوم کو نہیں سمجھتے۔وہی شخص اور صرف وہی شخص بیعت کے مفہوم کو ادا کرتا ہے جو دین کی خدمت کے لئے ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔آخر یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ جب وہ قربانی جس کا مطالبہ جماعت سے کیا جاتا ہے۔اگر زیادہ نہیں دس ہیں یا سو اس کے کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں تو وہی قربانی دوسرے کیوں نہیں کر سکتے۔اگر ایک جماعت سے دو ہزار آدمی ایسا نکل سکتا ہے جو اس مطالبہ کو پورا کرنے کے لئے تیار ہو جائے بلکہ مطالبہ سے بڑھ کر قربانی اور ایثار پیش کرتا ہے تو دوسرے لوگ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وہ حد سے زیادہ مطالبہ ہے اور اس کو پورا کرنا نا ممکن ہے اگر نا ممکن تھا تو دوسروں کے لئے بھی ناممکن ہونا چاہئے تھا۔وہ بھی انسان ہی تھے۔ان کے لئے وہ کس طرح ممکن بن گیا اور اگر وہ اس پر قادر ہو گئے۔تو دوسرے بھی ہو سکتے ہیں۔پھر میں کہتا ہوں کوئی مطالبہ ناممکن اور حد سے بڑھ کر کیونکر ہو سکتا ہے۔اگر دین میں کوئی ایسا موقعہ نہیں آ سکتا۔جب جان و مال سب کچھ دے دینے کی ضرورت پیش آ سکتی ہو۔تو پھر خدا تعالیٰ نے یہ کیا کیا ہے کہ بیعت لیتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سب کچھ