خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 20

20 وقت تک حقیقی اصلاح نہیں ہو سکتی۔پس میں خصوصیت سے جماعت کے کارکنوں کو یہاں کے کارکنوں کو بھی اور باہر کے کارکنوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ دو باتوں کی طرف جماعت کے لوگوں کو بار بار توجہ دلائیں اور سمجھانے اور ذہن نشین کرنے کی کوشش کریں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ کوئی قوم قربانی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ہماری جماعت کے لوگ باوجود اس کے کہ دوسروں کے مقابلہ میں بہت قربانیاں کرتے ہیں۔مگر ابھی تک اچھی طرح ان کے ذہن نشین یہ بات نہیں ہوئی۔کہ قربانی کا حقیقی مفہوم کیا ہے۔اور یہ کہ بغیر قربانی کے کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔بہت دفعہ کسی بات کا صحیح مفہوم معلوم نہ ہونے کی وجہ سے بھی انسان ٹھوکر کھا جاتا ہے۔اور سخت نقصان اٹھاتا ہے۔مثلا" ایک انسان یہ خیال کر کے کہ جس سفر پر میں جانے لگا ہوں وہ ایک دن کا سفر ہے۔اسی قدر کھانے پینے کی تیاری کرے جو ایک دن کے لئے کافی ہو۔لیکن وہ سفر سات دن کا ہو جائے۔تو باوجود اس کے کہ اس نے سامان سفر مہیا کیا ہو گا وہ اپنے آپ کو بھوک وغیرہ کی تکلیف سے بچا نہ سکے گا۔اس لئے کہ اس نے سامان سفر تو لیا۔مگر یہ غلطی کی کہ اسے یہ معلوم نہ ہوا کہ کس قدر سامان کی ضرورت تھی۔اسی طرح گو ہماری جماعت کے بہت لوگ اس بات کو محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں قربانی کی ضرورت ہے۔مگر ان میں سے ایسے بہت سے ہیں جو یہ محسوس نہیں کرتے کہ کس قدر قربانی کی ضرورت ہے۔ایسی صورت میں مختلف جماعتوں کے امیروں پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کا فرض ہے کہ بار بار لیکچروں کے ذریعہ اور لوگوں سے مل کر انہیں اس طرف توجہ دلائیں کہ احمدیت میں داخل ہونا معمولی بات نہیں بلکہ اپنے لئے اور اپنے عزیزوں کے لئے موت قبول کرنا ہے۔انہیں بتائیں کہ بیعت کا مفہوم یہ ہے کہ اپنا سب کچھ قربان کر دے۔اپنا مال اپنی جان اپنی عزت اپنا وطن اپنی حکومت غرض کہ جب تک کوئی اپنی ہر ایک چیز کو قربان کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا بیعت کے مفہوم پر عامل نہیں ہو سکتا۔بیعت کے معنی ہیں بیچ دیتا۔میں حیران ہو تا ہوں وہ لوگ جو قربانی کے چھوٹے چھوٹے سوال پر کہ دیتے ہیں۔ہم کب تک قربانی کرتے جائیں۔وہ بیعت کا کیا مفہوم سمجھتے ہیں کیا وہ بیعت کا وہی مفہوم سمجھتے ہیں۔جو عام پیروں کی بیعت کا سمجھا جاتا ہے۔کہ ایک شخص کا دامن پکڑ لیا۔اب یہ اس کا کام ہے کہ اٹھا کر نجات کے دروازہ پر پہنچا دے۔بیعت کرنے والوں کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔حالانکہ ایسا کوئی انسان نہیں گذرا۔حتی کہ حضرت محمد انے میں بھی یہ طاقت نہ تھی کہ کسی کو اس کی اپنی کوشش اور سعی کے بغیر نجات دلا سکیں۔پس خواہ خاتم