خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 221

221 جاتا ہے کیونکہ اس کے احساسات مار دیئے جاتے ہیں۔لیکن اس طرح حقیقی خوشی نہیں حاصل ہوتی۔لیکن چونکہ اس کے علم فکر اور جذبات کو مار دیا جاتا ہے اس لئے وہ شخص سمجھتا ہے۔مجھے خوشی حاصل ہو گئی۔حالانکہ یہ خوشی نہیں اور اگر یہ خوشی ہے تو یہ ایسی نہیں جو اندر سے پیدا ہوئی۔بلکہ یہ ایسی ہے جو باہر سے آئی اور چونکہ وہ باہر سے آئی ہے اس لئے حقیقی خوشی نہیں۔حقیقی خوشی وہ ہوتی ہے جو اندر سے پیدا ہو۔جو باہر سے ہے وہ نقلی ہے آگے نقلی خوشی کی دو قسمیں ہیں۔ایک وہ جو اصل کا رستہ صاف کرنے کے لئے آتی ہے۔اور دوسری وہ جو اصلی سے ہٹا دیتی ہے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک تو شراب سے طاقت دی جاتی ہے۔دوسری ورزش سے طاقت دی جاتی ہے۔دنیا میں نہ کوئی عقل مند ایسا ہے اور نہ کوئی ڈاکٹر جو ان دونوں طاقتوں کو برابر کیے۔ایک Stimulent دوائیاں ہوتی ہیں۔جو عارضی طور پر طاقت دیتی ہیں اور جب ان کا نشہ اور اثر اتر جاتا ہے تو وہ اصل طاقت کو بھی کم کر دیتی ہیں۔اور ایک قسم کی Exhaustion (ضعف و کمزوری پیدا کر دیتی ہیں۔مثلا" شراب سے عارضی طاقت پیدا کی جاتی ہے اور کچھ دیر کے لئے غموں اور فکروں کو مار دیا جاتا ہے ہے۔لیکن ایک اس قسم کی دوائیاں ہوتی ہیں جن سے مستقل طاقت پیدا کی جاتی ہے۔نماز روزہ وغیر ظاہری عبادات اسی قسم کے اعمال ہیں جو اصلی خوشی کا راستہ صاف کرنے کے لئے ہیں۔ان سے گویا وہ طاقت پیدا ہوتی ہے جو ورزش سے حاصل ہوتی ہے اور جو اس طاقت کی طرح عارضی نہیں ہوتی جو شراب یا افیون یا بھنگ سے پیدا کی جاتی ہے۔یہ بے شک ظاہری پابندیاں ہیں۔مگر یہ ایسی ہیں جن سے ایک ایسا سوراخ پیدا ہوتا ہے جس سے روحانیت کا وہ پانی انسان کے قلب میں پھوٹتا ہے جو در حقیقت انسانی زندگی کے لئے ضروری ہے۔اور اس سے ایسی طاقت پیدا ہونی شروع ہوتی ہے۔جو رفتہ رفتہ انسان کو پوری روحانیت میں لے آتی ہے۔لیکن وہ طاقت جو اوراد وغیرہ مصنوعی طریقوں سے پیدا کی جاتی ہے شراب یا کسی اور ایسی چیز کے ذریعہ پیدا شدہ طاقت کی طرح ہوتی ہے۔جو عارضی ہوتی ہے اور ایک حد تک قوت واہمہ کو بڑھاتی ہے اور تمام وہ چیزیں جو قوت واہمہ کو بڑھاتی ہیں مسلک ہوتی ہیں۔لیکن خدا کی طرف سے جو اعمال کرنے کا حکم ہے وہ Soothing ہیں۔ان سے ایک قسم کی تسکین حاصل ہوتی ہے اور وہ قوت واہمہ کو مار دیتے ہیں۔ہمارے ایک دوست ہیں وہ کچھ عرصہ پہلے درود و ظائف اور اذکار وغیرہ کے متعلق گفتگو کرتے رہتے تھے۔ایک دفعہ گفتگو اس مقام پر پہنچی کہ درود و ظائف سے بڑی لذت آتی ہے۔میں نے کہا لذت تو آتی ہے لیکن لذت ہی اگر مراد ہے تو لد۔و بھنگ پینے والے کو بھی آتی ہے۔میں یہ پوچھتا