خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 213

213 23 چند ضروری باتیں (فرموده ۲۳ جولائی ۱۹۲۶ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت پچھلے چھ جمعوں میں سے صرف ایک جمعہ پڑھانے کی توفیق مجھے ملی۔جمعہ کے ان خطبات میں سے ایک خطبہ کے متعلق ایک طالب علم نے شکایت کی ہے۔لیکن نہ تو اس کی کسی اور نے تائید کی ہے اور نہ میرے پاس کوئی اور اس قسم کی شکایت پہنچی ہے اور نہ ہی طالب علمانہ حیثیت میں ایک بچہ سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ کسی مضمون کو صحیح اور کامل طور پر سمجھ سکے۔پس بحث اس شکایت کی نہیں اس لئے میں اس تحریر کو قابل التفات نہیں سمجھتا۔لیکن جو غلط فہمی اس سے پیدا ہوئی ہے خواہ وہ طالب علم ہی کی ہو بہت بڑی ہے۔اس لئے اس کا ازالہ ضروری ہے۔پہلی دفعہ جب مجھ پر انفلوئنزا کا حملہ ہوا تھا تو ان دنوں کے خطبات میں سے ایک خطبہ کے متعلق اس طالب علم نے لکھا تھا اور میرا ارادہ تھا کہ اس کے متعلق بھی بیان کروں۔لیکن بیماری کے دوسرے حملے سے پھر بیمار ہو گیا اس لئے میں اس کے متعلق کچھ بیان نہ کر سکا۔گو جیسا کہ میں نے بتایا شکایت کرنے والا بچہ ہے۔اس کی روایت اس لحاظ سے کہ ابھی اس کے دماغ کی نشود نما ایسی نہیں کہ بات کی تہ تک پہنچ سکے قابل توجہ نہیں۔لیکن مضمون کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔اور مجھے اپنی بیماری کے ایام میں بہت تکلیف ہوئی کہ میں کیوں اس مضمون کے متعلق جلدی بیان نہیں کر سکتا۔آج خدا تعالیٰ نے موقعہ دیا ہے اس لئے میں پہلے اس کے متعلق بیان کرتا ہوں۔وہ شکایت یہ ہے کہ خطیب نے بیان کیا ہے کہ گویا بعض پیشگوئیوں کے لحاظ سے ایک موعود مسیح میں بھی ہوں۔کیونکہ بعض پیشگوئیاں جو مسیح موعود کے متعلق ہیں مجھ پر پوری ہوتی ہیں۔میں خطیب کی علمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اور جماعت میں اس کی جو پوزیشن ہے اسے اور اس کے تقویٰ اور نیکی کو