خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 200

200 نہیں ہوتا۔لیکن اس کی دعا کے ساتھ بجز و انکسار بھی نہیں ہوتا تو ایسی دعا بھی نہیں سنی جاتی جس کے ساتھ عجز و انکسار نہ ہو۔پھر اگر عجز و انکسار ہو لیکن دعا میں اصرار نہ ہو تو بھی دعا قبول ہونے سے رہ جاتی ہے۔ایسا شخص دعا تو مانگتا ہے مگر ایک دفعہ اور جب دیکھتا ہے کہ اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا تو پھر اسے مانگنا چھوڑ دیتا ہے۔حالانکہ وہ جانتا ہے کہ بعض وقت خدا تعالیٰ اس کو دیتا ہے جو اس طرح مانگتا ہے کہ اگر وہ ساری عمر بھی نہ دے تو یہ ساری عمر ہی مانگتا چلا جائے۔سوائے اس صورت کے کہ خدا تعالیٰ منع کر دے کہ ایسی دعا نہ مانگو۔جو شخص اس طرح اصرار کے ساتھ دعا مانگتا ہے اس کو ملتا ہے۔پس اصرار ایک ایسی چیز ہے کہ دعا کے لئے ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے۔گداگر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک نرگرا اور دوسرے خر گدا۔نرگرا وہ ہوتا ہے جو کسی کے دروازے پر جا کر آواز دیتا ہے کچھ دو اور کسی نے کچھ ڈال دیا تو لے لیا نہیں تو دو تین آوازیں دے کر آگے چلے گئے۔مگر خر گدا وہ ہوتا ہے کہ جب تک نہ ملے ٹلتا نہیں۔اس قسم کے گداگر لئے بغیر پیچھا ہی نہیں چھوڑتے۔اور ایسے گداگر بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بھی آکر ایک شخص بیٹھا کرتا تھا وہ نہیں اٹھتا تھا جب تک کچھ لے نہ لیتا تھا وہ بیٹھا رہتا تھا جب تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام باہر نہ نکلتے اور اسے کچھ دے نہ دیتے۔پھر بعض وقت وہ رقم مقرر کر دیتا کہ اتنی لینی ہے اور اگر حضرت صاحب اس سے کم دیتے تو وہ اسے ہرگز نہ لیتا۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ مہمان اسے اتنی رقم پوری کر دیتے تھے کہ چلا جائے۔میں نے دیکھا اگر اس کے منہ سے کوئی رقم نکل گئی کہ یہ لینی ہے اور وہ پوری نہ ہوتی تو وہ جاتا نہ تھا جب تک رقم پوری نہ کر دی جاتی۔اور اگر حضرت صاحب بیمار ہوتے تو تب تک نہ جاتا جب تک صحت یاب ہو کر آپ باہر تشریف نہ لاتے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے دعا کی قبولیت کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان خر گدا بنے اور مانگتا چلا جائے اور خدا کے حضور دھونی رہا کے بیٹھ جائے اور ملے نہیں جب تک کہ خدا کا فعل یہ ثابت نہ کر دے کہ اب اس کے متعلق دعا نہ کی جائے۔خدا کا وہ فعل جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب اس کے متعلق دعا نہیں کرنی چاہئے۔کئی طرح پر ظاہر ہوتا ہے مثلا یہی کہ ایک شخص کی بیوی حاملہ ہے۔اسے لڑکی پیدا ہوئی ہے۔اب وہ اس حمل کے متعلق دعا نہیں کر سکتا کہ اے خدا تو اس حمل سے لڑکا پیدا کر۔ہاں وہ اگلے حمل کے لئے دعا کر سکتا ہے کہ اس میں لڑکا پیدا ہو۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے فعل نے یہ ثابت کر دیا کہ اب اس حمل کے گوگو