خطبات محمود (جلد 10) — Page 183
183 اور پانچ دس بار بعد میں قسمیں نہیں کھا لیتے اور یہ ایسی لغو قسمیں ہیں کہ ان کی بدولت وہ پکڑے نہیں جاتے۔ورنہ اگر یہی بات ہوتی کہ ہر قسم حجت ہوتی تو آج عرب کا کوئی انسان نظر نہ آتا۔انسان کیا وہاں کوئی پرندہ اور حیوان بھی دکھائی نہ دیتا۔عرب کی اس عادت کو دیکھ کر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہاں کوئی آدمی ایسا نہ ہو گا جو دو تین لاکھ قسمیں مرنے سے پہلے نہ کھا چکا ہو مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ سب خالی جاتی ہیں اور جب قسموں سے کوئی فیصلہ نہیں ہو تا فرض کر لو کسی چیز کا بھاؤ چکایا جا رہا ہے تو جھٹ ایک شخص بول اٹھتا ہے کہ اگر اس کی یہی قیمت ہے تو پڑھ تو درود۔وہ لوگ درود پر زیادہ اعتبار کرتے ہیں۔اور درود پڑھنے پر سب فیصلہ ہو جاتا ہے۔یہی حال کشمیر میں ہے۔پچھلی دفعہ جب میں کشمیر میں گیا تو وہاں کشتی کے مکان میں ہم رہے اس مکان میں ایک شخص دو بطخیں لایا۔بچوں نے کہا نوں کے کباب کھانے ہیں یہ لے دو۔میں نے اپنے آدمی سے کہا کہ یہ اس سے خرید لو۔جب ہم نے خریدنی چاہیں تو اس نے کہا میں آپ کے ساتھ رعایت کرتا ہوں۔چنانچہ اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں انہیں پانچ روپے پر لایا ہوں میں نے ان کو زیادہ قیمت پر بیچنا تھا مگر آپ اس کے چھ روپے دیدیں۔ہم نے کہا یہ تو پانچ کی بھی نہیں پھر اس نے چار کئے اور قسم کھائی کہ میں چار پر لایا تھا پھر بھی میرے آدمی نے کہا کہ نہیں ابھی یہ بہت زیادہ ہے پھر تین پر بات آئی اس پر بھی اس نے قسم کھائی کہ میں انہیں تین روپے پر لایا ہوں۔غرضیکہ وہ ہر دم قسم پر قسم کھائے چلا جاتا اور جو قیمت بتاتا۔اس کے متعلق قسم کھا کر یہی کہتا کہ میں اس پر لایا ہوں پھر اڑھائی روپے پر ہمیں وہ بطخیں دے گیا۔اور جب وہ جانے لگا تو میں نے اسے کہا کہ دیکھو کتنی قیمتیں تم نے بتائیں اور ان سب پر تم نے قسمیں کھائیں اب اڑھائی روپیہ پر تم دے چلے ہو۔مجھے اب بھی شک ہے کہ یہ اتنے کی نہیں مگر تم ہو کہ قسمیں کھاتے ہی چلے گئے۔کہنے لگا اسی طرح گزارہ چلتا ہے۔پس قسموں کا یہ حال ہے کہ ان میں سے اکثر حصہ ایسا ہوتا ہے کہ اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔اور پھر اکثر ایسا کہ جو ہر گز دلیل نہیں بن سکتک تو جب یہ حال ہے تو انسان کیونکر اس کی بناء پر اندازہ لگا سکتا ہے۔یہ تو اس کی ایمانی کیفیت کا حال ہے جو اس کے اندر ہے اب ان قسموں پر اگر کوئی دیکھے تو وہ کسی طرح ایک شخص کے ایمان کا اندازہ کر سکتا ہے۔ایمان کے اندازہ کے لئے بھی اور دیگر امور کا فیصلہ کرنے کے لئے بھی اخلاق اور معاملات ہیں ان کی بناء پر ایک شخص کسی کے متعلق اچھی یا بری رائے قائم کر سکتا ہے اور کوئی فیصلہ کر سکتا ہے۔پس انسان کے سامنے تو اخلاق وغیرہ پر ہی فیصلہ ہوتا ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص کسی کو کہے تو مومن نہیں تو وہ اس بات کو ثابت نہیں کر سکتا جب تک