خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 176

176 جمع کرنے کے لئے ایسا کر رہا ہوں۔لیکن اگر یہ مال دین کی خدمت میں صرف ہوتا ہے۔اور مجھ کو ذاتی طور پر اس سے کوئی نفع نہیں پہنچتا تو پھر اگر میں وصیت کے ایسے معنی کرتا ہوں جن کی رو سے خدا تعالیٰ کے دین کے لئے زیادہ روپیہ جمع ہو سکتا ہے تو یہ میرے لئے کونسی شرم کی بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی وصیت کی غرض یہی بیان فرمائی ہے کہ اس ذریعہ سے جو روپیہ حاصل ہو گا وہ خدا کے دین کی اشاعت کے لئے خرچ کیا جائے گا۔پس جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس سے یہی غرض ہے کہ روپیہ آئے جو دین کی اشاعت کے لئے خرچ کیا جائے۔تو پھر اگر ہم نے ایسے معنی کئے کہ زیادہ روپیہ آئے تو یہ کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔کسی بات سے انسان کی دو غرضیں ایسی ہوتی ہیں جو مذموم ہوتی ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ ایسے عقائد گھڑنا چاہتا ہے جن کی وجہ سے دوسروں کو شکنجہ میں کس سکے۔اور دوسرے ذاتی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔وصیت کے معاملہ میں یہ دونوں باتیں نہیں ہیں پھر مجھے اس اعتراض پر کیا رنج ہو سکتا ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ اگر اس رنگ میں ہر بات کو بدلا جائے تو کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ جو لوگ وصیت کے یہ معنی کرتے ہیں کہ خواہ کوئی کتنی ہی قلیل رقم ادا کرے اس کی وصیت ہو جاتی ہے۔ان کا یہ مقصد ہے کہ وہ بغیر کچھ دیئے مقبرہ میں داخل ہو جائیں۔اگر ان کا حق ہے کہ یہ کہیں کہ وصیت کو مال کی قربانی اس لئے قرار دیا جاتا ہے کہ اس طرح زیادہ روپیہ وصول ہو تو دوسروں کا بھی حق ہے کہ وہ کہیں کہ ان کا یہ مطلب ہے کہ بغیر کچھ دیئے داخل ہو جائیں لیکن میں سمجھتا ہوں کم سے کم اس خیال کے جو لیڈر تھے ان کی یہ نیت نہ تھی۔اس خیال کے بہت بڑے مؤید میر محمد اسحاق صاحب تھے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں ان کے ذہن میں یہ بات نہ تھی کہ یونہی لوگ مقبرہ بہشتی میں دفن ہو جائیں بلکہ یہ تھی کہ وصیت کا منشاء ہی وہ ہے جو انہوں نے سمجھا دوسرے اس خیال کے مؤید شیخ عبد الرحمان صاحب مصری تھے۔ان کو بھی میں جانتا ہوں۔اور بچپن سے جانتا ہوں ان کا منشاء بھی یہی تھا کہ حضرت صاحب کا منشاء وہی ہے جو انہوں نے سمجھا ان کی تائید میں جو اور لوگ تھے ان کی سخت غلطی تھی۔مگر جو کچھ انہوں نے کہا دیانتداری سے کہا اور مجھے ان کے متعلق ایک ذرا بھی شبہ نہیں کہ ان کا خیال تھا کہ بغیر کچھ دیئے جنت میں داخل ہو جائیں۔پھر جس نے یہ کہا کہ وصیت کے نئے معنی اس لئے کئے جاتے ہیں کہ روپیہ آئے اگر چہ اس کا خیال نہایت بے ہودہ ہے۔مگر مجھے اس پر غصہ نہیں ہے۔کیونکہ میں یہی چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے زیادہ سے زیادہ روپیہ آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ والسلام فرماتے ہیں۔